’روس سے کبھی اقتدار چھوڑنے کے بارے میں بات نہیں ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption روسی صدر شام کے صدر کے قریبی حمایتی ہیں

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ روس نے کبھی بھی ان سے اقتدار چھوڑنے کے معاملے پر بات نہیں کی۔

این بی سی ٹی وی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں شامی صدر نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن اور دیگر حکام سے ہونے والی بات چیت میں اقتدار سے الگ ہونے کے معاملے پر ان سے کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

انھوں نے کہا صرف شامی عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ ’کب آنا ہے اور کب جانا ہے۔‘

٭اسد کے پاؤں جمنے لگے

٭اسد کی حکمت عملی سے خانہ جنگی نہیں رکے گی

امریکہ شام پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ شام میں ہونے والے مظالم کا ذمہ دار وہ ہے۔امریکہ سمجھتا ہے کہ شامی جنگ کے خاتمے کے لیے بشارالاسد کو چلے جانا چاہیے۔

لیکن مغربی طاقتوں کے برعکس روس نے شام کو وہاں موجود باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے مضبوط سفارتی اور فوجی پشت پناہی دی ہے۔

روسی صدر کہتے ہیں کہ طاقت کے بجائے کوئی سیاسی حل ہی جنگ کو ختم کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ شامی صدر کا حالیہ بیان امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے دورہ ماسکو سے پہلے آیا ہے جس میں وہ شام کے مسئلے پر بات چیت کریں گے۔

شامی صدر نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ انھیں اس بات کی فکر نہیں کہ ماسکو اور واشنگٹن ممکنہ طور پر کوئی ایسی ڈیل کر رہے ہیں جس کے ذریعے انھیں اقتدار سے ہٹایا جا سکے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روسی سیاست کا انحصار معاہدوں پر نہیں بلکہ اقدار پر ہے۔

امریکہ سنجیدہ نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جان کیری شام کے معاملے پر بات چیت کے لیے روس جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں

صدر اسد کا کہنا ہے کہ چند ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں لگے گا اور وہ پھر سے شام پر پورا کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ نہیں تھا جبکہ شام میں دہشت گردی تب ہی کم ہوئی جب سے روس نے مداخلت کی۔

بشارالاسد نے کہا کہ روس دہشت گردوں کو شکست دینا چاہتا تھا تاہم امریکہ ان گروہوں کے ذریعے ہی ان کی حکومت کو ختم کرنا چاہتا تھا۔

صدر اسد نے سنڈے ٹائمز کی رپورٹر میری کولوین کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنی موت کی ذمہ دار وہ خود ہیں جس کی وجہ جنگ کی کوریج کرنا ہے۔

’جنگ تھی اور وہ غیر قانونی طور پر شام آئی تھیں، انھوں نے دہشت گردوں کے ساتھ کام کیا، اور چونکہ وہ غیر قانونی طور پر آئی تھی اس لیے ان کے ساتھ جو بھی ہوا اس کی ذمہ دار وہ خود ہیں۔

ادھر رپورٹر میری کولوین کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ کولوین کو جان بوجھ کر صحافیوں کو قتل کرنے کی پالیسی کے تحت مارا گیا تھا۔

سنہ 2012 میں کولوین شامی حکومتی فوج کی جانب سے باغیوں کے علاقے بابا امر میں کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔اس حملے سے تھوڑی دیر قبل ہی انھوں نے بی بی سی، چینل فور اور سی این این کے لیے لائیو رپورٹنگ بھی کی تھی۔

اسی بارے میں