نیس حملے کی ’ذمہ دار‘ دولتِ اسلامیہ، پانچ افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں جمعرات کی شب قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والے حملے میں پولیس کے 12000 اضافی اہلکاروں کو فرائص سونپے گئے ہیں جبکہ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کر لی ہے۔

پیرس میں پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق 84 افراد کو ہلاک کرنے والے شخص سے تعلق رکھنے کے شبہے میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ تین افراد کو سنیچر جبکہ دو کو جمعے کو گرفتار کیا گیا ان میں حملہ آور کی سابقہ بیوی بھی شامل ہیں۔

دولت اسلامیہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی خبر رساں ایجنسی میں کہا گیا ہے کہ نیس کا حملہ اس نے کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیس میں حملہ کرنے والے شخص سے رابطے کے شک پر چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

شدت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس اعلان کے بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان ممالک کو نشانہ بنایا جائے جو عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں شامل ہیں۔

فرانس میں گذشتہ روز نیس حملوں کے تین روزہ سوگ کا آغاز ہوا تھا۔

ملک بھر میں پہلے ہی ایک لاکھ 20 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ 12000 اضافی نفری میں 9000 ملٹری پولیس افسران شامل ہیں جبکہ آگے چل کر مزید 3000 پولیس افسران بھی شامل کیے جائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے 84 افراد میں 10 بچے شامل تھے۔ سنیچر کو محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے 303 افراد میں سے 121 اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں 30 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 26 کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

نیس حملے کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی ہے اور عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لڑنے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر مربوط کوششیں کی جانی چاہییں۔

نیس میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں فرانس کے علاوہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ تاحال جن افراد کی شناخت ظاہر کی گئی ہے ان میں امریکہ اور آرمینیا کے دو، دو جبکہ فرانس، سوئٹزرلینڈ اور روس کا ایک ایک شہری شامل ہیں۔

حملہ آور 31 سالہ احمد لحوائج بوہلال نیس کے ہی رہائشی ہیں اور پولیس نے ان کی فلیٹ کی تلاشی بھی لی ہے۔

اسی بارے میں