اردوغان کو نیلسن منڈیلا کی نصیحت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مجھے پتا نہیں ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان اور جنوبی افریقہ کے آنجہانی صدر نیلسن منڈیلا کی کبھی کوئی تفصیلی ملاقات یا کچھ رازونیاز ہوئے تھے یا نہیں لیکن یہ یقین ضرور ہے کہ نیلسن منڈیلا صدر اردوغان کو ایک نصیحت ضرور کرتے۔

سادہ الفاظ میں کہا جائے تو اسلام پسند فضیلت پارٹی کی راکھ سے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ یا اے کے پارٹی بنانے والے صدر اردوغان مزاج کے اعتبار سے سٹریٹ فائٹر ہیں اور ایسے آدمی کو صرف دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں ۔۔ ہار یا جیت۔

* غداروں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی: اردوغان

* عالمی برداری کی ترکی کی جمہوری حکومت کی حمایت

* طیب اردوغان کا سیاسی سفر

لیکن ایک پروفیشنل فٹبالر سے سیاست دان بننے والے صدر اردوغان کو شاید یہ بات باور کرانے والا اُن کے قریبی حلقے میں کوئی رہ نہیں گیا کہ سیاست میں ہار یا جیت سے اوپر کا بھی ایک درجہ ہوتا ہے جو صرف نیلسن منڈیلا جیسے لوگوں کا ہی نصیب بنتا ہے۔

صدر اردوغان کی قیادت میں اے کے پارٹی نے لگاتار الیکشن جیتے۔ فوج اور سیکولر حلقوں کی مخالفت کے باوجود وہ تین بار وزیراعظم بنے اور پھراپنی مرضی سے وزارت عظمٰی سے منصبِ صدارت پر براجمان ہوئے۔

اُن کے دور میں معیشت خوب مستحکم ہوئی اور ترکی نے سنہ 2020 تک امیر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہونے کا ہدف بھی مقرر کیا۔ اقوام عالم میں انھوں نے ملک کا مرتبہ خوب بلند کیا اور خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔

Image caption نیلسن منڈیلا صدر اردوغان کو ایک نصیحت ضرور کرتے۔

لیکن پھر عرب دنیا میں جمہوری لہر شروع ہوئی تو شاید انھوں نے مغربی ملکوں کی نیک نیتی اور عرب آمروں کی مضبوطی اور سفاکی کا غلط اندازہ لگایا حالانکہ اِس میدان میں وہ اکیلے نہیں تھے۔

نتیجہ ترک معیشت پرپڑنے والا اربوں ڈالر کا بوجھ اور علاقائی تنہائی تھا۔

لیکن وہ یہ سب بھی اِس لیے جھیل گئے کہ ترکی کے اندر اُن کو نیچا دکھانے والا کوئی نہیں تھا۔

گذشتہ سال جون اور نومبر میں ترکی کے پارلیمانی انتخابات کی کوریج کے دوران مجھے بار بار یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ صدر اردوغان ملک میں کتنے زیادہ مقبول ہیں اور کتنے غیرمقبول۔

ترک سیاست میں اُن کے مقام کا تعین صرف ایک جملے میں کیا جاسکتا ہے کہ ترکی میں یا تو عوام صدر اردوغان کو دل و جان سے چاہتے ہیں یا دل و جان سے ان سے نفرت کرتے ہیں۔ اور اگر آخری الیکشن کو پیمانہ بنائیں تو دونوں طرف تعداد برابر دکھائی دیتی ہے۔

گذشتہ روز کی ناکام فوجی بغاوت اور صدر اردوغان کی اپیل پر استنبول سے لے کر دوسرے سرے پر غازیان تپ تک ہر شہر میں اگر ہزار ہا ترک سڑکوں پر نکل آئے تو یہ بھی اُن کی مقبولیت کا ایک اور ثبوت ہے۔ عوامی ردعمل نے نہ صرف جمعے کے روز طالع آزمائی کرنے والے فوجیوں کو ناکام بنایا بلکہ آئندہ کے لیے ایسا سوچنے والوں کو بھی بھرپور پیغام دے دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اردوغان کو سمجھنا ہوگا کہ ترکی کے تمام مسائل وہ اکیلے حل نہیں کرسکتے۔

گذشتہ جون میں جب صدر اردوغان کی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی تو کچھ مبصرین نے کہا تھا کہ اگر صدر اردوغان عوامی موڈ کے پیش نظر کسی نئے رہنما کے لیے جگہ چھوڑ دیں تو شاید وہ ترک تاریخ میں زیادہ اچھے الفاظ میں یاد رکھے جائیں۔

لیکن صدر کسی پروفیشنل فٹبالر کی طرح صرف ہار یا جیت جانتے ہیں اور جمعے کو تو وہ ایک بار پھر بھرپور انداز میں جیت گئے ہیں۔

لیکن اگر نیلسن منڈیلا صدر اردوغان سے ملتے تو انھیں کان میں یہی نصیحت کرتے کہ ہار یا جیت سے بڑی بات لوگوں کے دلوں میں گھر کر جانا ہے۔

نلیسن منڈیلا نسلی امتیاز کے خاتمے کے بعد صرف ایک مدت صدارت کے بعد یہی کہہ کر الگ ہوگئے تھے کہ ہارنے کے احساس سے زخمی سفید فام اقلیت اور طویل استحصال اور زیادتیوں کے انتقام کا مطالبہ کرتی سیاہ فام اکثریت کے درمیان پل کا کام تو خود وہی کرسکتے ہیں جو انھوں نے کردیا ، باقی کام اُن کے بعد آنے والے بھی کرسکتے ہیں۔

صدر اردوغان کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ترکی کے تمام مسائل وہ اکیلے حل نہیں کرسکتے۔

صدر اردوغان کے حامی اور مخالفین میں منقسم ترکی میں اگرنیلسن منڈیلا آج صدر اردوغان سے ملتے تو یقیناً کان میں یہی کہتے کہ وقت ایک بار پھر عظمت کا تاج لیے آپ کے در پر کھڑا ہے، لیکن شرط یہی ہے کہ ہار اور جیت کی تقسیم سے بلند ہوکر دلوں میں گھر کر لیں۔

اسی بارے میں