نیس حملہ: سابق فرانسیسی صدر کی حکومت پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب تک صرف 35 لاشوں کی شناخت کی گئی ہے

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والے ٹرک حملے کے بعد ملک کے سابق صدر نکولا سارکوزی نے موجودہ حکومت پر مناسب سکیورٹی فراہم نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔

مرکزی دائیں بازو کی حزب اختلاف کی جماعت کے رہنما نکولا سارکوزی نے کہا ہے کہ انتہا پسند اسلام سے منسلک غیر ملکی شہریوں کو فرانس سے نکال دینا چاہیے۔

٭ نیس میں حملہ کرنے والا کون تھا؟

٭ ’حملہ آور پریشان مگر انداز جارحانہ تھا‘

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو ایک تیز رفتار ٹرک سے ہجوم کو کچلے جانے کے واقعے میں بچوں سمیت 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

نیس سمیت دیگر مقامات پر لوگوں نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے ہلاک شدگان کو خراج تحسین پیش کیا۔

85 زخمی افراد اس وقت زیر علاج ہیں جن میں سے 18 کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

اب تک صرف 35 لاشوں کی شناخت کی جا سکی ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کی صحیح شناخت کرنے کے لیے محتاط اقدامات لینا ضروری ہیں۔

فرانسیسی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے نکولا سارکوزی نے کہا کہ ’جمہوریت کو کمزور بھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی یاد گار بننا چاہیے۔ جمہوریت کو یہ کہنا ہوگا کہ ہم یہ جنگ جیتیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیونس میں سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی عربی کو بتایا ہے کہ محمد لحوايج بوہلال اکثر تیونس آتا رہتا تھا

انھوں نے کہا کہ وہ انتہا پسند مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کے حق میں ہیں اور ان لوگوں پر الیکٹرانک ٹیگ بھی لگے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جو اس کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔

فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جہادی شدت پسندوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔

تاہم 18 ماہ میں تیسرا بڑا حملہ ہونے کے بعد ملک کے رہنماؤں کو تنقید کا سامنا ہے۔

یہ بات اب تک واضح نہیں ہوئی ہے کہ نیس حملہ آور محمد لحوايج بو ہلال ایک جہادی تھا یا نہیں۔

ان کے ہمسایوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک جارحانہ اور تنہائی پسند آدمی تھا جسے شراب پینا، ویٹ لفٹنگ اور سالسا ڈانسنگ کا شوق تھا۔

فرانس کے وزیر اعظم مینول والز نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ محمد لحوايج بو ہلال انتہا پسندی کی طرف اتنا جلدی راغب ہوا ہو کہ وہ حکام کی توجہ سے بھی بچ گیا۔

اسی بارے میں