’عوامی مطالبے پر سزائے موت کی بحالی کے لیے تیار ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ترکی نے سنہ 2004 میں ملک میں سزائے موت کا قانون ختم کر دیا تھا

ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ’اگر عوام مطالبہ کرتے ہیں‘ تو وہ سزائے موت کی بحالی کے لیے تیار ہیں۔

ترک صدر استنبول میں اپنی رہائش گاہ کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے جہاں سزائے موت کی دوبارہ بحالی کے لیے نعرہ بازی کی جارہی تھی۔

دوسری جانب یورپی یونین کے حکام نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ملک میں سزائے موت کو بحال کی تو اس کے یورپی یونین میں شمولیت کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔

رجب طیب اردوغان بغاوت کی کوشش کے بعد پولیس اہلکاروں اور سرکاری عملے پر ہونے والے کریک ڈاؤن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ترکی میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور فوجی افسران اور ججوں کو برطرف یا حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ترکی کے مغربی اتحادیوں نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور صدر اردوغان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیکھ بھال کر کوئی قدم اٹھائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’آپ عوام کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

تاہم منگل کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ ترکی ایک ’جمہوری ریاست ہے جہاں قانون کی بالادستی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تھا اگر ترک عوام یہ مطالبہ کرتے ہیں اور پارلیمان اس قانون سازی کی منظوری دے دیتی ہے تو وہ سزائے موت بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ عوام کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’آج کیا امریکہ میں سزائے موت نہیں ہے؟ روس میں؟ چین میں؟ دنیا بھر کے ممالک میں؟ صرف یورپی یونین کے ممالک میں سزائے موت نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ ترکی نے سنہ 2004 میں یورپی یونین کا رکن بننے کی کوششوں کے سلسلے میں ملک میں سزائے موت کا قانون ختم کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption عدلیہ اور فوج سے تعلق رکھنے والے 6000 افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں

واضح رہے کہ ترک حکام نے تقریباً آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر گذشتہ ہفتے ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے پر معطل کر دیا ہے جبکہ عدلیہ اور فوج سے تعلق رکھنے والے 6000 افراد پہلے ہی حراست میں لیے جا چکے ہیں جن میں دو ہزار سے زیادہ جج بھی شامل ہیں۔

زیرِ حراست افراد میں 100 کے قریب فوجی جرنیل اور ایڈمرل بھی شامل ہیں۔ صدر کے اعلیٰ ترین فوجی معتمد بھی زیرِ حراست لوگوں میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں