برطانیہ کی جوہری آبدوز کا بحری جہاز سے’تصادم‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایسٹیوٹ آبدوز سطح سمندر پر آئے بغیر کرہ ارض کا چکر لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے

برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جبرالٹر کے قریب برطانوی علاقے میں بحری مشقوں کے دوران اس کی ایک جوہری تونائی سے چلنے والی آبدوز ایک بحری جہاز سے چھو کر گزر گئی جس سے آبدوز کو بیرونی سطح پر معمولی نقصان ہوا ہے۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ آبدوز کا جوہری ری ایکٹر مکمل طور پر محفوظ ہے اور عملے کے تمام افراد بھی محفوظ ہیں۔حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

برطانیہ کی رائل نیوی نے کہا ہے کہ جوہری آبددوز نے جب برطانوی پانیوں میں غوطہ لگایا تو وہ ایک بحری جہاز سے چھو کرگزرگئی۔

بیان کے مطابق یہ تصادم منگل کو مقامی وقت کے مطابق 13:30 پر پیش آیا۔

برطانیہ کی رائل نیوی اس بحری جہاز سے رابطے میں ہے جسے بظاہر کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

تصادم کا شکار ہونے والی آبدوز تواتر کے ساتھ جبرالٹر کے علاقے کا سفر کرتی رہتی ہے اور آخری بار مارچ اور جون میں جبرالٹر میں رکی تھی۔

تصادم کا شکار ہونے والی آبدوز ایسٹیوٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہے جن کا شمار برطانیہ کی بڑی اور جدید آبدوزوں میں ہوتا ہے۔ اس آبدوز کی لمبائی 318 فٹ ہے اور اس کی تیاری پر 1.6 ارب پونڈ کی لاگت آئی ہے۔

تصادم کاشکار ہونے والے والی آبدوز تارپیڈو اور ٹام ہاک میزائلوں سے لیس تھی۔

آبدوز کو دو سال کے ٹرائیل کے بعد 2013 میں رائل نیوی کے دستے میں شامل کیا گیا تھا۔

اس آبدوز پر نصب جوہری ری ایکٹر کو 25 برسوں تک ایندھن بھرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور یہ اپنے لیے ہوا اور پانی کا بندوست خود کرتی ہے۔ یہ آبدوز سطح سمندر پر آئے بغیر کرہ ارض کا چکر لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دو ہزار میں بھی ایک برطانوی آبدوز جزیرے آئل آف سکائی میں ایک آزمائشی تجربے کے دوران ساحل پر پھنس گئی تھی اور جب اسے بحری جہاز کے ذریعے پانی میں لے جانے کی کوشش میں اسے معمولی نقصان پہنچا تھا۔

سن 2010 میں اس وقت جنوبی سپین اور جبرالٹر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے جب ایک برطانوی آبدوز مرمت کے لیے جبرالٹر میں لنگر انداز ہوئی تھی۔

اسی بارے میں