گھریلو تشدد اور انتہا پسندی کا تعلق

Image caption اورلینڈو میں حملہ کرنے والے عمر متین جن کے ہاتھوں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں موجود 49 افراد ہلاک ہوئے

حال ہی میں اورلینڈو اور نیس میں حملہ کرنے والے نوجوانوں کی شناخت اور ماضی کے بارے میں مزید معلومات موصول ہو رہی ہیں۔

ان دونوں نوجوانوں کے بارے میں موصول ہونے والے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ گھریلو تشدد اور ڈپریشن کا شکار تھے اس کے علاوہ ان کی جنسی تشخص اور دیگر رحجانات کے بارے میں بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔

٭’مذہبی کنوارے اور انتہاپسندی‘

٭ حملہ آور اور دولتِ اسلامیہ کے براہ راست رابطے کا ثبوط نہیں

جیسا کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ مسلسل طور پر یہ دعویٰ کرتی آرہی ہے کہ وہ مغرب میں حملے کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی وہ مختلف سیاسی اور صنفی تشخص اور معیار کو بھی ترویج دے رہی ہے۔

یہ اپنا پیغام لوگوں کو مذہبی طور پر مضبوطی فراہم کرنے کے لیے نہیں دیتی بلکہ زیادہ تر ان نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کر رہی ہے جو خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں جو عام طور پر نفسیاتی کنٹرول اور عام فہم سوالات کے جوابات نہیں دے پاتے تھے۔

’ جنسی دہشت گردی‘

سنہ 2009 سے سنہ 2015 تک عوامی قتل عام کے حوالے سے ایف بی آئی نے جو ڈیٹا جمع کیا ہے اس کے مطابق 57 فیصد حملہ آوروں کے خاندان یا بیویاں ان کے تشدد کا شکار رہی ہیں۔

16 فیصد ایسے تھے جو گھریلو تشدد کا نشانہ بنے۔

گھریلو تشدد کو دہشت گردی کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے۔ جیسا کہ جسمانی طور پر بدسلوکی کا نشانہ بننا یا اس طرح کے حربے استعمال کرنا جس میں دوسرے شخص پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا شامل ہو۔

اورلینڈو حملہ ہو، نیس حملہ یا پھر بوسٹن میراتھن پر بمباری کرنے والے اکیلے حملہ آوروں سمیت بہت بڑے حملے کرنے والے ان سب کا ریکارڈ ’جنسی دہشت گردی‘ سے جڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیس میں حملہ کرنے والے 31 سالہ احمد لحوائج بوہلال نے 84 افراد کو قتل کیا

اورلینڈو میں حملہ کرنے والے عمر متین، جن کے ہاتھوں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں موجود 49 افراد ہلاک ہوئے، کے ماضی کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ برے سلوک میں ملوث رہے ہیں۔

ان کے ایک استاد نے بتایا کہ آٹھ سال کی عمر میں انھوں نے دیگر ساتھیوں پر تشدد کیا جو کبھی کبھار جنسی نوعیت کا تشدد بھی ہوتا تھا۔

یہی بدسلوکی آگے بڑھ کر عمر متین کی ازدواجی زندگی میں بھی شامل ہوئی۔ان کی پہلی بیوی ستارا یوسفی نے کھل کر اپنے ساتھ ہونے والے جسمانی اور ذہنی تشدد کے بارے میں بتایا۔ اس کے علاوہ وہ دوستوں اور خاندان سے دور تنہائی کا شکار بھی تھے۔

نیس میں حملہ کرنے والے 31 سالہ احمد لحوائج بوہلال نے 84 افراد کو قتل کیا۔ ان کی زندگی میں بھی گھریلو تشدد دیکھا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنی اہلیہ کو زدوکوب کرتے تھے اور ان سے برا رویہ اپناتے تھے۔ ان کے پڑوسی کہتے ہیں کہ دو سال قبل جب ان کی بیوی انھیں چھوڑ کر چلی گئی تھی تو اس کے بعد سے وہ ڈپریشن کا شکار نظر آتے تھے، غصہ کرتے تھے اور غیر متوازن شخصیت بن چکے تھے۔

ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2005 میں فرانس منتقل ہونے سے قبل تیونس میں نفسیاتی معالج سے ملتے تھے۔

ان کے اہِل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ چیختے چنگھاڑتے تھے اور چیزیں توڑ دیتے تھے۔

لیکن ایسا نہیں کہ ایسے لوگ ہی جو گھریلو تشدد کرنے والے ہوں مبینہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں جائیں۔ مگر یہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ جو اپنے قریبی افراد پر تشدد کرے وہ دیگر لوگوں کے خلاف بھی ایسا کر سکتا ہے۔

صنفی تشخص اور جنسیت

عمر متین اور احمد لحوائج بوہلال کے بارے میں یہ اشارے بھی ملتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرستی میں مبتلا تھے۔

اگرچہ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ عمر متین کے ہم جنس پرست ہونے کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔ مگر بہت سے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے عمر کو نائٹ کلب میں آتے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہم جنس پرستوں کی ایپ بھی استعمال کرتے تھے اور ایک بار انھوں نے ڈیٹ کے لیے ایک دوست سےکہا بھی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ap Reuters
Image caption عمر متین کی سابقہ اہلیہ کے مطابق وہ کلب جاتے تھے تاہم یہ پسند نیں کرتے تھے کہ لوگ اس سے آگاہ ہوں

عمر متین کے برعکس احمد لحوائج بوہلال کے فون ریکارڈ سے سامنے آیا ہے کہ وہ دونوں جنسوں کی جانب مائل تھے وہ ڈیٹنگ سائٹس کا استعمال کرتے تھے۔

اگرچہ ان دونوں کے ماضی کے متعلق ملنے والی معلومات دولتِ اسلامیہ کے نظریات یعنی مردانگی کے مظاہرے اور ہم جنس پرستی کے مخالفت سے متصادم ہے تاہم اسی طرح ظاہر ہوتا ہے کہ کمزور اور برگشتہ افراد کیسے اس گروہ جانب مائل ہوتے ہیں۔

نازی گروہ سے لے کر اسلامی شدت پسند نیٹ ورکس تک تمام پرتشدد اور دہشت گرد تنظیمیں خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور غلامی کی توجیہ پیش کرتی رہی ہیں۔

یہ منظم طریقے سے نہ صرف خواتین بلکہ ان تمام لوگوں سے برا سلوک کرنے کے لیے طریقہ کار دیتے رہے ہیں جو ان کے صنفی معیارات کے زمرے میں نہ آتے ہوں۔

صنفی طریقہ کار

دولتِ اسلامیہ مرد کی حاکمیت اور اجارہ داری اور عورت کی محکومیت کا پرچار کرتی ہے۔

ایسے لوگ جو امتیازی نظریات کے حامل ہوں اور پرتشدد رحجانات رکھتے ہوں یہ انتہاپسند تنظیمیں انھیں قبول کرتی ہیں اور ان کے پرتشدد رحجانات کی تعریف بھی کرتی ہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ وہ بیرون ملک دولت اسلامیہ کے خلاف حملوں کو جاری رکھیں گے۔ تاہم یہ یورپ کو درپیش خطرے کو کم کرنے میں تھوڑی ہی مدد کر سکے گا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے کثیر الجہتی بنادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے یعنی مقامی اور قومی سطح پر حکام ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ بھی کریں اور لوگوں کی ذہنی صحت کو بڑھانے میں بھی مدد کی جائے۔

اسی بارے میں