آئی ایم ایف کی سربراہ کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانس کی ایک ذیلی عدالت نے مِس لیگارڈ کے خلاف فیصلہ گذشتہ سال دسمبر میں سنایا تھا

فرانس کی ایک عدالت نے عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ کی سربراہ اور فرانس کی سابق وزیرِ معیشت کرسٹین لیگارڈ کے خلاف ایک کاروباری شخصیت کو سرکاری خزانے سے خطیر رقوم فراہم کرنے کے معاملے میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

فرانس کی اپیل کورٹ نے یہ فیصلہ کرسٹین لیگارڈ کے خلاف اس مقدمے میں سنایا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ اپنے دورِ وزارت میں انھوں نے ارب پتی کاروبای شحضیت برنارڈ ٹیپائی کو سرکاری خزانے سے 445 ملین ڈالر کی رقوم فراہم کرنے میں میں بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا تھا۔

مسِ لیگارڈ نے مسٹر ٹیپائی کو یہ رقوم فراہم کرنے کا فیصلہ سنہ 2008 میں اپنی وزارت کے دنوں میں کیا تھا۔

فرانس کی ایک ذیلی عدالت نے مِس لیگارڈ کے خلاف فیصلہ گذشتہ سال دسمبر میں سنایا تھا جس کے بعد انھوں نے اس کے خلاف اپیل کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اپیل کورٹ میں مقدمہ ہار جانے کے بعد، توقع کی جاری ہے کہ مِس لیگارڈ اب فرانس کی اس خصوصی عدالت سے رجوع کریں گی جو حکومتی وزیروں کے خلاف مقدمات سنتی ہے۔

مِس لیگارڈ کے خلاف اس مقدمے کی بنیاد مسٹر ٹیپائی کے کھیلوں کا سامان بنانے والی مشہور کمپنی کے حصص فروخت کرنے کے معاملے سے ہے۔ ایڈیڈاس کے حصص کی اکثریت مسٹر ٹیپائی کے پاس تھی اور جب انھوں نے یہ حصص فروخت کیے تو اس کے لیے سرکاری بینک ’کریڈٹ لائیز‘ کی خدمات استعمال کی تھیں۔

Image caption مسٹر ٹیپائی پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر سرکوزی کے ساتھ اپنی دوستی کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا

مسٹر ٹیپائی کا کہنا تھا کہ سنہ 1993 میں جب انھوں نے ایڈیڈاس کے حصص فروخت کیے تھے تو انھیں بہت کم پیسے ملے تھے اور سرکاری بینک نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا تھا۔

اس قسم کے معاملے کا فیصلہ عموماً عدالتیں کرتی ہے، لیکن سنہ 2008 میں مس لیگارڈ نے ایک غیرمعمولی فیصلہ کیا مسٹر ٹیپائی کے حصص والے معاملے کی تحقیق کے لیے ایک پینل بنا دیا ہے۔

جب نکولس سرکوزی صدر تھے اس وقت مِس لیگارڈ ان کی کابینہ میں وزیرِ معیشت تھیں۔ مسٹر ٹیپائی سرکوزی کے حامی تھے اس حوالے سے یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ انھوں نے مسٹر سرکوزی کے ساتھ اپنی دوستی کو استعمال کیا اور سرکاری بینک سے بھاری رقوم حاصل کیں۔

مِس لیگارڈ کا موقف رہا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا اور انھوں نے جو بھی کیا وہ ریاست کے مفاد میں تھا اور قانون کے مطابق تھا۔

فرانس کی سب سے بڑی اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد مِس لیگارڈ کے وکیل کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ مقدمے میں ثابت ہو گا کہ ان کی موکلہ بے قصور ہیں۔

عدالت کے اس تازہ ترین فیصلے کے بعد آیی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ادارے کے بورڈ کے ارکان کو اب بھی مِس لیگارڈ کی صلاحتیوں پر اعتماد ہے اور ارکان کو یقین ہے کہ وہ اپنے فرائض بخوبی انجام دیتی رہیں گی۔ ادارے کا مزید کہنا تھا مِس لیگارڈ کو ان کے خلاف مقدمے کے حوالے سے باخبر رکھا جا رہا ہے۔

مِس لیگارڈ کو اس سال جنوری میں آئندہ پانچ سال کے لیے آئی ایم ایف کے عہدے میں توسیع دی گئی ہے اور وہ عالمی مالیاتی ادارے کی تیسری سربراہ ہیں جنھیں قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرناپڑا ہے۔

جہاں تک مسٹر ٹیپائی کا تعلق ہے وہ بھی ایک فرانسیسی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں جس میں عدالت نے اس بات کو رد کر دیا تھا کہ اس مقدمے کا مرکزی نکتہ تصفیے میں دی جانے والی رقوم تھیں۔

اسی بارے میں