’لوگ چیختے چلاتے مال میں داخل ہوئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمنی کے شہر میونخ میں حکام کے مطابق ایک شاپنگ سنٹر میں فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت دس افراد ہلاک ہوئے

جرمنی کے شہر میونخ کے شاپنگ سینٹر میں مسلح شخص کے حملے کو بہت سے عینی شاہدین نے دیکھا اور اس کے مناظر کو میڈیا سے بیان کیا۔

ایک مقامی رہائشی ڈومنک فاسٹ نے اس کے بارے میں کچھ یوں بتایا۔

’تقریبا دو گھنٹے قبل لوگ چيختے چلاتے ہوئے مال کے اندر داخل ہوئے۔ ان لوگوں نے ہمیں بتایا کہ باہر گولیاں چل رہی ہیں اس لیے سکیورٹی حکام نے اس مال کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں اور سبھی کو پانچویں منزل پر جانے کو کہا گيا ہے۔ اب یہاں میں تقریباً 150 دیگر افراد کے ساتھ ہوں اور ہم سے عمارت سے باہر نہ جانے کے لیے کہا گیا ہے۔‘

٭ میونخ: فائرنگ میں دس ہلاک، ’حملہ آور اکیلا تھا‘

٭ میونخ میں حملہ: کب کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ریڈیو سٹیشن کے آپریٹر جان جینہرالڈ کا کہنا تھا کہ پولیس اب بھی ان تین افراد کی تلاش میں ہے۔

انھوں نے بتایا: ’ہمارا ریڈیو سٹیشن سینٹرل سٹیشن کے بالکل قریب میں ہے۔ سٹیشن کو بیس منٹ قبل ہی بند کر دیا گيا تھا اور اب اس کے اندر خصوصی دستے ہیں۔ اس طرح کی باتیں کہی گئی ہیں کہ جنھوں نے یہ کیا ہے وہ یہیں پر موجود ہیں لیکن ابھی صورت حال واضح نہیں ہے۔‘

ایک مقامی دوکان دار ہارون بلٹا کا کہنا تھا: ’ہم اب بھی بغیر کسی معلومات کے مال کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم پولیس کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ہمیں آکر بچائے گي۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک پب میں کام کرنے والے سیم پاورز کا کہنا تھا کہ ’اپنے ایک دوست، جو شاید پب کے باہر ہی تھا، کو تلاش کرنے کے لیے میں نے پب میں جانے کی کوشش کی لیکن مجھے ایک مسلح پولیس والے نے پیچھے جانے کو کہا، تو موجودگی تو واضح طور پر دکھتی ہے۔ میرے خیال سے اگر پولیس ایک بار کہہ دے کہ اب سب ٹھیک ہے تو لوگ زیادہ محفوظ محسوس کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

میونخ میں کام کرنے والے کرسٹوفر جونز نے بتایا کہ انھوں نے درجنوں افراد کو مال سے نکل کر دوڑتے بھاگتے ہوئے دیکھا۔

’میں نے کسی سے پوچھا کہ کیا ہورہا ہے۔ انھوں نے گولی چلنے کے بارے میں بتایا۔ میں فوراً ہی پیچھے مڑا اور گھر کی طرف واپس ہوا۔ اس کے بعدگارڈن میں میں گولی کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ظاہر ہے وہاں پر بڑي تعداد میں پولیس بھی موجود تھی، سائرن کی آوازيں اور پولیس کے ہیلی کاپٹر۔ میں تو اب گھر میں محفوظ ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ٹی وی رپروٹر رچرڈ گوتجر کا کہنا تھا کہ انھوں نے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر ہی پاس کے ایک فلیٹ میں پناہ لی۔

انھوں نے بتایا: ’تقریباً 12 لوگ یہاں پر ہیں۔ انھیں مقامی لوگوں نے پناہ دی تھی اور ان لوگوں نے جو کچھ بھی دیکھا وہ انھوں نے مجھے بتایا۔ شاپنگ سینٹر کے اندر اور باہر پارک میں فائر کیے گئے۔ اس فائرنگ کا تعلق باہر قریب ایک ریسٹورنٹ میں ہونے والی فائرنگ سے کوئي تعلق نہیں تھا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ شاید ہمیں کئی حملہ آوروں سے نمٹنا پڑے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

فری لانس صحاقی جینک شمد نے وہاں کی صورت حال کے متعلق کچھ یوں بتایا۔

’اب بھی شاپنگ سینٹر کے باہر بہت سے لوگ جمع ہیں جو اپنے ان لواحقین کا انتظار کر رہے ہیں جنھوں نے تحفظ کے مد نظر اپنے آپ کو دوکانوں میں بند کر لیا تھا۔ اس طرح کی بھی خبریں ہیں کہ بعض افراد کو لوگوں نےکھول کر باہر نکالا ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگ پریشانی کے عالم میں ان کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

فرینک اس شاپنگ سینٹر میں ہی موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں کچھ لوگ موجود تھے۔

’وہ بھاگ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اندر ایک شخص بندوق لیے ہوئے ہے۔ میں نے تین فائر سنے اور میں بھی بھاگا۔ اگلا باہر جانے کا راستہ 50 میٹر کے فاصلے پر تھا اور وہ شخص اسی راستے آرہا تھا۔‘

اسی بارے میں