ترکی: ہزاروں نجی سکولوں اور تنظیموں کو بند کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اب تک کم از کم 60 ہزار سرکاری ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے یا حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ملک میں ایک ہزار نجی سکولوں اور 1,200 سے زائد تنظیموں کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کسی شخص کو فرد جرم عائد کیے بغیر حراست میں رکھنے کی مدت میں اضافہ کر دیا ہے۔

سنیچر کو جاری کیے جانے والے سرکاری بیان کے مطابق صدر ادوغان نے کسی بھی شخص کو بغیر عذر بتائے حراست میں رکھنے مدر چار دن سے بڑھا کر 30 دن کر دی ہے۔

٭پاکستان گولن کے تحت چلائے جانے والے ادارے بند کرے‘

٭ اردوغان کی جوابی بغاوت کے نشانے پر کون؟

٭ ت رک دانشوروں کے ملک چھوڑنے پر پابندی

گذشتہ جمعے کو ترکی میں فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ ناکام ہو گئی اور ناکام بغاوت کے بعد حکومت کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 60 ہزار سرکاری ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے یا حراست میں لیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ ترک حکومت امریکہ میں مقیم مبلغ فتح االلہ گولن پر الزام عائد کرتی ہے کہ ملک میں بغاوت ان کی ایما پر کی گئی ہے تاہم وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق صدر طیب اردوغان نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے حکام کو موقع ملے گا کہ وہ ناکام بغاوت سے پیدا ہونے والی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹ سکیں اور ملک میں حالات کو معمول پر لا سکیں۔

گذشتہ ہفتے کے دوران حکام نے جن افراد کے خلاف کارروائیاں کی ہیں ان میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق وزارت تعلیم، پرائیویٹ سکولوں یا یونیورسٹیوں سے ہے جن میں یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ گذشتہ دنوں میں حراست میں لیے جانے والے 60 ہزار افراد میں ہزاروں سپاہی، پولیس اہلکار اور دیگر سرکاری ملازمین شامل تھے، تاہم ان میں سے ان سینکڑوں فوجیوں کو رہا کر دیا گیا ہے جنھیں جبری بھرتی کیا گیا تھا۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق سنیچر کو جن سکولوں اور تنظیموں کو بند کرنے کا حکام دیا گیا ہے ان کے بارے میں حکومت کو شک ہے کہ فتح االلہ گولن کے ساتھ روابط ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صدر ادوغان کو فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے

ان کے علاوہ جن دیگر اداروں یا تنظیموں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں مزدوروں کی 19 تنظیمیں، 15 یونیورسٹیاں، 35 طبی ادارے اور ہوسٹل شامل ہیں۔

’تعصب اور بدگمانی‘

ترکی میں ایمرجنسی کے نفاذ سے صدر اور کابینہ کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ پارلیمان میں جائے بغیر نئی قانون سازی کر سکتے ہیں۔

حالیہ پابندیوں کے حوالے سے صدر ادوغان کو فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، لیکن اپنے ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے ترکی کا کہنا ہے کہ ’صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جاری ہے جن کے بارے میں سو فیصد یقین ہے کہ بغاوت کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔‘

سنیچر کو فرانس کے ٹی وی چینل ’فرانس 24‘ سے بات کرتے ہوئے صدر اروغان کا کہنا تھا کہ یورپی اتحاد ترکی کے خلاف ’تعصب اور بدگمانی‘ سے کام لے رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption فتح االلہ گولن ادوغان حکومت کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔

ایمنٹسی انٹرنینشل سمیت حقوق انسانی کی کئی بین الاقوامی تنظییں ترکی کو خبردار کر چکی ہیں کہ وہ مدت حراست میں اضافہ نہ کرے۔ سنیچر کے 30 دن کے فیصلے سے پہلے ترکی میں بغیر فراد جرم عائد کیے بغیر حراست میں رکھنے کی زیاد سے زیادہ مدت چار دن تھی۔

ایمنٹسی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ تختہ الٹنے کی کوشش کے بعد حکومت جو جائز اقدامات کر سکتی تھی ’مسٹر اردوغان اس حد سے بہت آگے جا رہے ہیں۔‘

طیب اردوغان کے کئی دیگر ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ وہ جس طرح طاقت اپنے ہاتھوں میں مرکز کر رہے ہیں سنہ 1946 میں ترکی میں پہلے جمہوری انتخابات کے بعد سے اس کی مثال نہیں ملتی۔

سنیچر کے سرکاری بیان سے پہلے ترکی کے نائب وزیراعظم نورتن کانیکلی نے کہا تھا کہ ناکام بغاوت کے بعد ملک میں ہونے والی گرفتاریاں بغاوت کرنے والے گروہ کے جلاوطن رہنما گولن کے حمایتیوں کی ملکی اداروں میں موجودگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔

نائب وزیراعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ بغاوت میں ملوث ہونے والے مزید افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں