سعودی عرب کی سرحد پر جھڑپوں میں پانچ محافظ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سعودی حکام نے مسلح گروہ کی شناخت ظاہر نہیں کی

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے مطابق یمن کے راستے سے سعودی عرب کی سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے مسلح گروہ سے آٹھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں اس کے پانچ سرحدی محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔

٭ عدن میں فوجی اڈے پر دو حملے

٭اقوام متحدہ کا گھٹنے ٹیکنا افسوس ناک ہے

خبر رساں ادارے ایے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے پیر کو جاری بیان میں بتایا ہے کہ مسلح افراد اور باڈر کی سکیورٹی پر مامور محافظوں کے درمیان یہ جھڑپیں پیر کی صبح جنوبی خطے نجران میں ہوئیں۔

وزارتِ داخلہ نے سعودی عرب کی سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے گروہ کا نام نہیں بتایا۔

Image caption گذشتہ مارچ سے اب تک ہلاک ہونے والے یمنی باشندوں کی تعداد 6400 بتائی جاتی ہے جبکہ 28 لاکھ افراد اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے

خیال رہے کہ یمن سے متصل سعودی عرب کے سرحدی علاقے میں اس سے قبل بھی گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں حوثی باغیوں اور سعودی فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔

سعودی عرب نے اتحادی افواج کے ہمراہ مارچ 2015 میں یمن میں موجود حوثی باغیوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔

حالیہ جھڑپ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب وہاں یمن جنگ کے خاتمے کے لیے امن کی کوششوں میں کچھ مثبت پیش رفت کے اشارے ملے ہیں۔

اس سے قبل پیر کی شام سعودی اتحاد نے بتایا تھا کہ ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو خراب موسم کے باعث یمن کے صوبے مارب میں حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دو سعودی افسر ہلاک ہو گئے تاہم باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔

باغی گروہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے مارب اور جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان کے درمیان اس ہیلی کاپٹر کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے مار گرایا تھا۔

حوثی باغیوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ جمعرات سے اب تک ہونے والی لڑائی میں یمنی حکومت کی حامی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی میں 82 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق ڈیڑھ سالہ جنگ میں سعودی عرب کی فوج اور شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو چکی ہے۔ یہ افراد سعودی سرحد پر جھڑپوں اور بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ گذشتہ مارچ سے اب تک ہلاک ہونے والے یمنی باشندوں کی تعداد 6400 بتائی جاتی ہے جبکہ 28 لاکھ افراد اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ادھر قیام امن کے لیے کیے جانے والے مذاکراتتاحال کامیاب نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں