دولتِ اسلامیہ نے چرچ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

فرانس میں پولیس کے مطابق روان شہر کے قریب واقع چرچ پر دو مسلح افراد کے حملے میں پادری ہلاک ہو گیا ہے۔

پولیس کی کارروائی میں دونوں مسلح افراد بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

٭نیس حملہ آور کے پانچ مبینہ ساتھی گرفتار

٭نیس حملے کی’ذمہ دار‘دولتِ اسلامیہ، پانچ افراد گرفتار

٭ ’لوگ افسردہ لیکن زندگی چل رہی ہے‘

دولتِ اسلامیہ سے منسلک خبر رساں ایجنسی کے مطابق’ دولتِ اسلامیہ کے دو جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا۔‘

پولیس ذرائع کے مطابق بظاہر حملہ آوروں نے چاقو سے پادری کا گلا کاٹ کر مارا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسلح حملہ آور سینٹ ایٹیینے۔ دو روورے میں واقع چرچ میں دعائیہ تقریب کے دوران داخل ہوئے اور انھوں نے چرچ کے 84 سالہ پادری اور دیگر چار افراد کو یرغمال بنا لیا۔

فرانس کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان پیری ہینری برینڈٹ نے کہا ہے کہ یرغمال بنائے جانے والے ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس ذرائع کے مطابق بظاہر حملہ آوروں نے چاقو سے پادری کا گلا کاٹ کر مارا

وزارتِ داخلہ کے ترجمان پیری ہینری برینڈٹ کے مطابق ابھی تک حملے کے محرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات انسداد دہشت گردی کے پراسیکیورٹرز کریں گے۔

فرانس کے وزیراعظم مینوئل ویلس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں حملے کو سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ سارا فرانس اور کیتھولک زخمی ہیں، اور اب بھی ہم متحد ہیں۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف اس وقت کارروائی کی گئی جب وہ چرچ سے باہر آ رہے تھے۔

پولیس اس وقت چرچ کی تلاشی لے رہی ہے تاکہ اگر وہاں حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد رکھا ہے تو اسے تلاش کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ علاقے سے دور رہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور وزیر داخلہ سینٹ ایٹیینے۔ دو روورے پہنچ چکے ہیں جہاں انھیں پولیس حکام بریفنگ دیں گے۔

فرانس 3 ٹیلیوژن کا کہنا ہے کہ چرچ سے گولیاں چلنے کی آواز آئی ہے۔

ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی لوگوں کو یرغمال بنانے کے محرکات کے بارے میں پتہ چلا ہے۔

فرانس میں پیرس اور اس کے بعد نیس میں حملے کے بعد سکیورٹی پہلے ہی ہائی الرٹ ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ویلیمسن کا کہنا ہے کہ اس وقت فرانسیسی حکومت پر مزید حملوں کو روکنے کے حوالے سے شدید دباؤ ہے۔

فرانس میں رواں ماہ ہی جنوبی شہر نیس میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والے حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت پیرس میں ہونے والے حملوں میں130 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

اسی بارے میں