نفرت پر مبنی جرائم، پولیس کی صلاحیت کا جائزہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یورپی یونین سے باہر نکلنے کے ریفرنڈم کے بعد سے نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کے باعث ایسے جرائم کو کنٹرول کرنے کی برطانوی پولیس کی صلاحیت کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔

برطانوی وزیر داخلہ کا اس حوالے سے اعلان جلد متوقع ہے۔

وزیر داخلہ امبررڈ اعلان کریں گی کہ شاہی کانسٹیبلری اس بات کا تجزیہ کرے گی کہ انگلینڈ اور ویلز کی پولیس نفرت پر مبنی جرائم پر کیسے رد عمل دیتی ہے۔

اس جائزے کا فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب جون سے اب تک نفرت پر مبنی جرائم کی چھ ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں۔

اس جائزے میں اس بات کو بھی دیکھا جائے گا کہ نفرت پر مبنی جرائم اور ہراس کو سکولوں میں کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں اعلان منگل یعنی آج کیا جائے گا جس کے ذریعے نفرت پر مبنی جرائم کو کنٹرول کرنے میں بہتری آئے گی۔

وزارت داخلہ کے مطابق حکومت سکولوں کے ساتھ مل کر نفرت پر مبنی جرائم کو رپورٹ کرنے کے نظام پر کام کرے گی۔ اس کے علاوہ اساتذہ اور والدین اس حوالے سے کیا مزید کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پولیس کے 16 جون سے 7 جولائی کے اعداد و شمار کے مطابق دس فیصد نوجوان عقیدے کے حوالے سے نفرت پر مبنی جرائم کا شکار ہوئے، آٹھ فیصد نسل کی بنیاد پر نشانہ بنے۔

پیر کو استغاثہ نے درخواست کی کہ نفرت پر مبنی جرائم کےمرتکب مجرموں کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔

برطانیہ میں عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لیے 24 لاکھ پاؤنڈ کا فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق چار ہفتوں کے دوران انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئر لینڈ میں نفرت پر مبنی جرائم کے چھ ہزار واقعات پیش آئے۔

تاہم سب سے زیادہ نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد ریفرنڈم کے نتائج کے اگلے روز پیش آئی جن کی تعداد 289 تھی۔

اسی بارے میں