شام میں کُردوں کے زیرِ انتظام شہر میں دھماکے، 44 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکوں سے ایک بڑے علاقے میں تباہی ہوئی

شام میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کردوں کے زیر کنٹرول شہر القامشلی میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانیہ سے شام میں حقوق انسانی کی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کے مطابق ایک ٹرک بم دھماکہ کرد سکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ہوا۔

٭ ’دولتِ اسلامیہ کمزور ہوئی ہے مگر ہاری نہیں‘

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک ٹرک اور ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔

ٹی وی پر بم دھماکوں کے بعد کی صورتحال کے مناظر نشر کیے گئے ہیں جس میں ایک بڑے علاقے میں دھماکوں کے نتیجے میں تباہی اور دھویں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے ترکی کی سرحد کے قریب واقع صوبہ الحسكہ میں ہونے والے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرد صوبے میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں

دولتِ اسلامیہ سے منسلک نیوز ایجنسی عماق کے مطابق ایک خودکش بمبار نے ٹرک کو مقامی پولیس کے سینٹر اور قریبی سرکاری عمارتوں کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔

دولتِ اسلامیہ اس سے پہلے بھی کردوں پر متعدد بم حملے کر چکی ہے۔

گذشتہ برس امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے اتحاد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے صوبہ الحسكہ میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور دونوں ممالک میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے باہر بھی عام شہریوں اور سرکاری املاک کو ہدف بناتے ہیں۔

اسی بارے میں