’کرادہ کا بے مثال، انوکھا اور خوفناک دھماکہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے تین جولائی کو بغداد میں جس جگہ اب تک کا سب سے بڑا دھماکہ کیا وہ بھی ایک خوفناک منظر پیش کرتا ہے۔ اس حملے میں 292 عراقی شہریوں کی جان گئی تھی۔

بغداد شہر میں ہر جانب سکیورٹی چیک پوائنٹس ہیں اور مسلح گارڈز کا زبردست پہرہ تو نظر آتا ہے لیکن شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب کوئی چھوٹا یا بڑا حملہ نہ ہوتا ہو۔

لیکن بغداد کے پاس میں کرادہ میں ہونے والے اس دھماکے میں کوئی عام سا بم استعمال نہیں ہوا تھا۔ اس بم کے ڈیزائن اور اس کی منزل سے ہی پتہ چلتا ہے کہ داعش نے دہشت پھیلنے اور نقصان برپا کرنے کو ایک نیا طریقہ حاصل کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بغداد شہر میں ہر جانب سکیورٹی چیک پوائنٹس ہیں اور مسلح گارڈز کا زبردست پہرہ تو نظر آتا ہے لیکن شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب کوئی چھوٹا یا بڑا حملہ نہ ہوتا ہو

مغربی ممالک کے ایک سکیورٹی افسر، جو کہ بغداد میں تعینات ہیں، کا کہنا تھا کہ ’داعش نے پہلی بار ایک ایسے طریقہ کار کا استعمال کیا جس کی مد سے بم کو چیک پوائنٹس کی گرفت میں نہ آنے دیتے ہوئے منتقل کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہم نے ایسا اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا اور یہ امر کافی فکر میں مبتلا کرنے والا ہے۔‘

اس بم حملے کی نوعیت اور اس کی باریک بینی سے متعلق تمام تفصیلات تو تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گی جو عراقی حکام کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دھماکے کا طریقہ کار وی بی آئی ای ڈی کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی وہیکل بورن امپروائزڈ ڈیوائسز، جو آج کل اکثر خودکش دھماکوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

لیکن اس واقعے میں جس نوعیت سے دھماکہ خیز مواد کار میں نصب کیاگيا اور بم میں مختلف کیمکلز کو جس انداز سے ملایا گيا وہ عام طریقے سے مختلف تھا۔

دھماکہ خیز مواد کے ماہر ایک عراقی افسر جو اس دھماکے کی تفتیش سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ اسے تیار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ اس کی ڈیوائس کو فلوجہ میں اس وقت تیار کیاگیا ہو جب داعش کا وہاں پر کنٹرول تھا۔

ان کے مطابق: ’داعش نے اس پہلو پر بہت غور و فکر کیا ہے کہ چیک پوائنٹس پر گرفت میں آئے بغیر اسے کیسے گزارا جائے۔‘

ممکن ہے بم تیار کرنے والوں نے نیا فارمولہ انٹرنیٹ سے لیا ہے جو اس پر دستیاب ہے اور پھر اس میں استعمال ہونے والی مادے کی مقدار کو گرفت سے بچنے کے لیے کم کر دیا گيا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

کئی دیگر عراقی افسروں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اس بم میں انوکھے قسم کے کیمائی مادے بھی استعمال کیےگئے۔

سول ڈیفنس فورسز سے وابستہ بریگيڈیئر جنرل خادم بشیر صالح کہتے ہیں: ’ہم زبردست آگ لگنے کے تو عادی ہیں لیکن اس بم میں جو کیمکل استعمال ہوا وہ عراق میں تو پہلی بار ہوا ہے۔ یہ بالکل انوکھا، عجیب اور خطرناک قسم کا تھا۔‘

ایک دوسرے سکیورٹی افسر ہاشم الہشیمی نے بتایا کہ انھیں لگتا ہے کہ 2004 میں القاعدہ نے بھی اسی نوعیت کے ملے جلے مادے کا استعمال کیا تھا۔

اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے جو حدت پیدا ہوئی وہ اتنی گرم تھی کہ جیسے سورج زمین پر آ گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس کا اثر صرف آس پاس کی عمارتوں تک ہی نہیں بلکہ اس سے بھی دور تک ہوا اور دوبارہ نکلنے والی آگ کی لپٹوں نے زبردست نقصان پہنچایا۔

اور چونکہ اس سے بچنے کے لیے کسی بھی طرح کے کوئی انتظام نہیں تھا اس لیے تباہی کچھ زیادہ ہی پھیلی۔

دوکاندار صادق معروف ان چند لوگوں میں سے تو اس حملے سے بچ سکے۔ ان کہنا تھا: ’آگ سے بچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔‘

عراق پر امریکی حملے کے بعد سے یہ اب تک کا سب سے بڑا بم دھماکہ تھا جس سے سکیورٹی فورسز نے عام طور پر استعمال ہونے والے ڈیٹیکٹرز کے متعلق ایک سبق تو سیکھا ہے کہ سب سے سب بیکار ہوچکے ہیں اور وہ کسی لائق نہیں بچے ہیں۔

اس حملے کے بعد وزیر اعظم حیدر العبادی نے ان سب کو چیک پوائنٹس سے ہٹانے کے احکامات دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دھماکہ خیز مواد کے ایک ماہر عراقی افسر کا کہنا ہے کہ ’ان ڈیوائسز کو روکنے کے لیے ہمیں تربیت یافتہ کتّوں کی ضورت ہے۔‘

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کو بھی شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس قدر تباہی مچا سکیں گے۔

جو بھی کچھ ہو اس واقعے سے آس پاس کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی اور بہت سے لوگ اب بھی اس جگہ افسوس ظاہر کرنے اور غم منانے آتے ہیں۔

اسی بارے میں