پیرس حملوں کے دو مبینہ منصوبہ ساز فرانس منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الجیریا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ عدیل حادادی اور 35 سالہ پاکستانی نژاد محمد عثمان غنی کو تارکین وطن کے سینٹر سے گرفتار کیا گیا تھا

نومبر 2015 میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث دولتِ اسلامیہ کے دو ممبران کو فرانس منتقل کیا گیا ہے اور رپورٹس کے مطابق ان پر دہشت گردی کا الزام ہے۔

ان دونوں افراد کو دسمبر میں آسٹریا سے گرفتار کیا گیا تھا۔

٭’پیرس حملوں کے ذمہ دار نیٹ ورک کو ختم کیا جارہا ہے‘

الجیریا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ عدیل حادادی اور 35 سالہ پاکستانی نژاد محمد عثمان غنی کو تارکین وطن کے سینٹر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ دونوں افراد یونان تک پیرس میں حملہ کرنے والوں کے ہمراہ چلے تھے اور یہ ممکنہ طور پر اس سازش میں شامل تھے۔

فرانس کی تاریخ میں 13 نومبر کو ہونے والے حملے بدترین حملے تھے۔

بتاکلان کنسرٹ ہال، نیشنل فٹ بال سٹیڈیم، ریسٹورنٹس اور بارز میں ایک ہی وقت میں کیے جانے والے ان حملوں میں مسلح افراد نے 130 لوگوں کو ہلاک کیا تھا جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

مسٹر ہادادی اور مسٹر غنی نے یونان کے پناہ گزین کیمپ تک پہنچنے کے لیے کشتی میں سفر کیا تاہم انھیں غلط شامی پاسپورٹ رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں انھیں رہا کردیا گیا اور پھر وہ سالزبرگ چلے گئے۔ اس دوران فرانسیسی پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر انھیں گرفتار کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ہادادی نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ایک مشن پورا کرنے کے لیے فرانس جانا چاہتے تھے۔

یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ عنی پاکستان کے شدت پسند گروہ لشکرِ طیبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بم بنانے کے ماہر ہیں۔

اسی بارے میں