امریکہ میں زیکا وائرس کے پہلے ’ممکنہ کیسز‘

Image caption امریکہ میں اب تک اس وائرس کے 1650 کیسز سامنے آچکے ہیں

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر فلوریڈا میں سامنے آنے والے زیکا وائرس کے چار متاثرین کے کیسز ملک کے اندر موجود اس وائرس کے پہلے کیسز ہیں اور شاید یہ مقامی مچھروں سے منقتل ہوئے ہیں۔

٭فلوریڈا میں زیکا کے چار پراسرار کیسز

٭زیکا مچھروں پر قابو پانے میں ناکامی کا نتیجہ

اب تک لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے باہر جہاں جہاں یہ وائرس موجود ہے ، یا تو سفر کے باعث یا پھر جنسی عمل کے ذریعے امریکہ میں منتقل ہوا۔

زیکا سے متاثر لوگ تھوڑے سے بیمار دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ نومولود بچوں کے دماغ کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے۔

فلوریڈا کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ’غالب امکان ہے کہ یہ چار کیسز مقامی طور پر اس وائرس کی منتقلی کا نتجہ ہیں جو میامی کے شمال میں ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نومولود بچوں میں اس مرض کی منتقلی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت نے رواں برس فروری میں زیکا وائرس کو عالمی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی تھی

امریکہ میں اب تک اس وائرس کے 1650 کیسز سامنے آچکے ہیں تاہم فلوریڈا کے یہ چار کیسز وہ پہلے کیسز ہیں جو جنسی عمل یا بیرون ملک سے امریکہ میں منتقل نہیں ہوئے۔

گورنر رک سکوٹ نے کہا کہ یہ صرف فلوریڈا کا نہیں یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے۔

بیماریوں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے سی ڈی سی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس وائرس کے شکار مزید افراد سامنے آئیں گے۔

ادارے کے چیف ٹام فرائڈین کا کہنا ہے کہ ’کئی ہفتے قبل‘ یہ انفیکشن نمودار ہوا تھا اور فلوریڈا کے سفر پر پابندی کا بھی کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے زیکا وائرس سے نمٹنے کے لیے فلوریڈا کی مدد کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے جمعے کو سامنے آنے والے بیان میں زیکا کے تدارک کے لیے امدادی فنڈ ریلیز نہ کرنے پر کانگرس پر تنقید کی گئی ہے۔

متاثرہ کاؤنٹیز میں خون کے عطیات لینے کاسلسلہ بند کر دیا گیا ہے اور پہلے سے موجود خون کے عطیات کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

وائرس سے متاثر ہونے والے تین افراد کا تعلق میامی ڈیڈ کاؤنٹی سے ہے جبکہ چوتھے مریض کا تعلق اسی سے متصل برورڈ کاؤنٹی سے ہے۔ یہ دونوں علاقے فلوریڈا کے گنجان آباد علاقوں میں شامل ہوتے ہیں۔

متاثرین میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی ہسپتال میں زیر علاج نہیں ہے۔

اس کی تصدیق کے لیے کہ آیا یہ وائرس مچھروں سے پھیل رہا ہے یا نہیں ماہرین متاثرہ کاؤنٹیز کے 150 گز کے علاقے میں گھروں اور آبادی کا سروے کر رہے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ہی ایک ہسپانوی خاتون کے ہاں زیکا سے متاثرہ بچے کی ولادت ہوئی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یورپ میں یہ اس قسم کا پہلا کیس ہے۔

نومولود بچوں میں اس مرض کی منتقلی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت نے رواں برس فروری میں زیکا وائرس کو عالمی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔

اسی بارے میں