مسلح افواج پر براہ راست کنٹرول چاہتا ہوں: اردوغان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اردوغان کی جانب سے ان اقدامات کا اعلان ترکی میں بغاوت کی کوشش کی ناکامی کے بعد کیے جانے والے اقدامات کی کڑی ہے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے خفیہ ادارے اور مسلح افواج پر ان کا براہ راست کنٹرول ہو۔

سنیچر کی شب الہیبر ٹی وی کو انٹرویو دیتے صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت آئین میں تبدیلیوں کے لیے پارلیمان سے رجوع کرے گی۔

٭ ’ترکی پر تنقید کرنے والے اپنے کام سے کام رکھیں‘

٭ ترکی کا درجنوں میڈیا ادارے بند کرنے کا اعلان

صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ تمام فوجی سکول بند کر دیے جائیں گے اور ایک قومی عسکری یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے لیکن ان کے اسلحے میں اضافہ کیا جائے گا۔

صدر اردوغان کی جانب سے ان اقدامات کا اعلان ترکی میں بغاوت کی کوشش کی ناکامی کے بعد کیے جانے والے اقدامات کی ایک کڑی ہے۔

صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ وہ ترکی کے خفیہ ادارے اور فوجی سربراہ کو براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے آئینی میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔

’ہم پارلیمان میں ایک آئینی پیکج متعارف کروائیں گے اگر وہ منظور ہوگیا تو نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزئشن (ایم آئی ٹی) اور چیف آف سٹاف براہ راست صدرات کے زیر اثر آجائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بری، بحری اور فضائیہ کے سربراہان وزیر دفاع کو براہ راست رپورٹ کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ فوج کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے لیکن ان کے اسلحے میں اضافہ کیا جائے گا

صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ وہ ایم آئی ٹی اور اس کے سربراہ کی جانب سے بغاوت کی رات موصول ہونے والی معلومات سے ناخوش تھے اور انھوں نے وقت کے ضیاع کی شکایت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا: ’بدقسمتی سے یہ انٹیلی جنس کی شدید ناکامی تھی۔‘

خیال رہے کہ ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد 18000 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔

جبکہ جمعرات کو فوج میں تبدیلیوں کا اعلان کرے ہوئے 1700 فوجی اہلکاروں کو برطرف کر دیا تھا اور اب تک 40 فیصد جرنیل اپنے عہدوں سے برطرف ہو چکے ہیں۔

پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے142 میڈیا اداروں کو بند کیا جا چکا ہےاور متعدد صحافی بھی زیرِ حراست ہیں۔

اسی بارے میں