عراق کے دو چہرے

Image caption کریم اب کافی مشہور موسیقار ہیں

یہ کریم اور صادق کے ساتھ ساتھ عراق کی کہانی بھی ہے۔

ان دونوں کی پہلی ملاقات صدام کے دورِ اقتدار کے دوران سنہ 2001 میں ہوئی تھی۔

کریم واصفی جو امریکہ میں موسیقی کے طالبعلم تھے وہ عراقی موسیقاروں اور فن کاروں کی مدد کے لیے بغداد آئے تھے۔

*’کرادہ کا بے مثال، انوکھا اور خوفناک دھماکہ‘

بغداد آنے کے بعد انھیں عراق میں بنائے گئے کپڑے خریدنے کی ضرورت تھی اور انھیں معلوم تھا کہ وہ بغداد کے مشہور علاقے کرادہ جہاں ہر فرقے اور مذہب کے لوگ آباد تھے، اپنے لیے سوٹ خرید سکتے ہیں۔

صادق معروف اس علاقے کے ایک نوجوان دکاندار تھے۔

رواں ہفتے ان دونوں کی اچانک اسی علاقے میں دوبارہ ملاقات ہوئی، اب یہ دونوں 40 سال سے زائد عمر کے ہیں۔

کچھ ہفتے قبل خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند گروہ نے اس علاقے میں بم حملے کر کے 292 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

میرے سامنے ان دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان کر ہاتھ ملایا۔

صادق نے بہت فخر سے کریم سے کہا کہ ’ہم پہلے مل چکے ہیں‘ جس کے جواب میں کریم کا کہنا تھا ’ہاں مجھے یاد ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کرادا میں ہونے والے بم حملے میں 292 افراد کو ہلاک ہوئے تھے

پھر میری جانب دیکھتے ہوئے کریم نے بتایا کہ صادق کے خاندان کی دکان بغداد میں کتنی مشہور تھی۔ یہ سن کر صادق کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ عیاں تھی۔

کریم اب کافی مشہور موسیقار ہیں اور وہ کرادہ میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں وہاں چیلو (مقامی ساز) بجانے آئے تھے۔

صادق بھی مرنے والوں کو یاد کرنے کے لیے وہاں آئے تھے۔ حملے میں صادق اگرچہ خود بچ نکلے تھے لیکن ان کے خاندان کے 9 افراد اس بم حملے میں مارے گئے تھے۔

ان کے بقول اس حملے میں ہلاک ہونے والے اور ان کے پیارے انھیں بہت عزیز تھے۔

صادق کے خاندانی دکان بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی تاہم مجھے دیکھتے ہوئے صادق نے کہا ’ گھبرانے کی بات نہیں ہے ہم اس کاروبار کو دوبارہ کھڑا کر لیں گے۔‘

جب کریم چیلو بجا رہے تھے تو صادق ان کے پیچھے کھڑے تھے ۔ کریم اکثر ایسے حملوں کی مقام پر جا کر اپنا چیلو بجاتے ہیں اور مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

عراق کے بہت سے مشہور موسیقار ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور کریم کا اپنا خاندان بھی عرق کو خیرباد کہہ چکا ہے۔

لیکن بہت سے ایسے عراقیوں کی مانند جو صدام کے اقتدار کے خاتمے کے بعد وطن لوٹے تھے کریم بھی اپنے ملک میں کو نہ چھوڑنے کے بارے میں پرعزم ہیں۔

Image caption صادق اب اس ملک کو چھوڑنا چاہتے ہیں

تاہم صادق جن سے کریم کی ملاقات 20 برس قبل ہوئی تھی اب اس ملک کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔

کریم نے مجھے بتایا کہ اب وہ مزید اس طرح کی زندگی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔

یہ لوگ عراق کے دو چہرے ہیں جو آپ کو ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ کچھ عراقی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔

لیکن بہت سے دیگر خصوصاً نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس ملک میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

کریم عراق کا وہ چہرہ ہیں جس کے لیے یہ ملک دنیا بھر میں مشہور تھا جیسے کہ فن کار، ماہرِ آثارِ قدیمہ، ماہرِ تعمیرات اور دیگر افراد۔

جبکہ صادق اس کاروباری طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس ملک کے لوگوں کے لیے اقتصادی خوشحالی لا سکتا ہے۔

کریم اور صادق کی اس ہفتے اچانک پھر ملاقات ہوئی ہے تاہم یہ اندزہ لگانا مشکل ہے کہ اگر کبھی یہ دوبارہ ملے تو اس وقت عراق کے کیا حالات ہوں گے۔

اسی بارے میں