امریکہ کی ترکی میں بغاوت کی کوششوں کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی فوجی سربراہ جنرل ڈنفورڈ نے ترکی کے وزیر اعظم یلدرم سے ملاقات کی ہے

امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے ترک وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔

پیر کو امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے وزیر اعظم بن علی یلدرم سے انقرہ میں ملاقات کی ہے۔

٭صدر کو گرفتار کرنے کے لیے جانے والے فوجی گرفتار

٭باغیوں کی تدفین غداروں کے قبرستان میں

ترکی کے مطابق اس کے اتحادیوں نے تختہ پلٹنے کی ناکام کوشش کی مذمت کے بجائے اس کے خلاف ترکی کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ترک وزیراعظم نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ تختہ پلٹنے کی کوششوں کی ناکامی کے بعد ترکی کی جانب سے بھی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔

ان کے دفتر سے جری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل ڈنفورڈ نے حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے اور وہ ترکی کی جمہوریت اور اس کے عوام کی حمایت کے لیے انقرہ تشریف لا رہے ہیں۔

وزیر اعظم یلدرم نے کہا: ’یہ انتہائي اہم ہے کہ ہمارے دوست اور اتحادی امریکہ نے ہمارے ملک اور جمہوریت کے خلاف تختہ پلٹنے کی دہشت گردانہ کوششوں پر واضح اور فیصلہ کن رویہ اختیار کیا ہے۔‘

Image caption گذشتہ ہفتے تختہ پلٹنے کی ناکام کوشش کے بعد بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار اور نوکریوں سے معطل کیا گيا ہے

ملاقات سے قبل امریکی فوج کے ترجمان کیپٹن گریگ ہکس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جنرل ڈنفورڈ ’تختہ پلٹنے کی حالیہ کوششوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کا پیغام دیں گے۔‘

اس درمیان انقرہ میں بعض مظاہرین اس سے متفق نہیں ہیں اور انھوں نے بینر اٹھا رکھے ہیں جن پر لکھا ہے ’تختہ پلٹنے کی سازش کرنے والے ڈنفورڈ ترکی سے نکل جاؤ‘ اور ’ڈنفورڈ گھر واپس جاؤ۔ فتح اللہ کو بھیجو۔‘

ترکی کا کہنا ہے کہ امریکہ مذہبی رہنما فتح اللہ گلین کو ترکی کے حوالے کر دے کیونکہ اس کے مطابق وہ تختہ پلٹنے کی اس کوشش کے پس پشت ہیں جبکہ گلین ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

مسٹر یلدرم نے جنرل ڈنفورڈ سے گلین کی حوالگی کی دوبارہ درخواست کی ہے۔

ترکی کی حکومت نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے جو اس کے مطابق تختہ پلٹنے کی حالیہ کوشش میں شامل یا اس سے کسی بھی طرح منسلک تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کے لوگ اس تختہ پلٹنے کوشش کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے

فوج، عدلیہ، انتظامیہ اور تعلیمی اداروں سے دسیوں ہزار افراد کو یا تو گرفتار کیا گيا ہے یا پھر انھیں معطل کر دیا گيا ہے۔

جنرل ڈنفورڈ نے انسرلک فوجی اڈے کا دورہ بھی کیا جسے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کے لیے امریکہ اور دوسرے اتحادیوں کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جبکہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ترکی کو نیٹو کے اہم رکن ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ 15 جولائی کو رجب طیب اردوگان کے خلاف تختہ پلٹنے کی کوشش میں کم از کم 246 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں