مارسے کے واٹر پارک میں ایک دن ’برقینی‘ کے لیے مختص

تصویر کے کاپی رائٹ AFPGetty Images

فرانس میں ایک کمیونٹی نے اعلان کیا ہے کہ واٹر پارک کو ایک دن کے لیے ان مسلمان خواتین کے لیے مختص کیا جائے گا جو ’برقینی‘ پہننا چاہتی ہیں۔ تاہم دائیں دھڑے کے سیاستدانوں کی جانب سے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مارسے میں ایک کمیونٹی گروپ نے ان خواتین کے لیے ایک دن کا اہتمام کیا ہے جو تیراکی کے لیے جسم کو مکمل ڈھانپنے والا لباس پہنتی ہیں۔

یہ گروپ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ خواتین کی اس ’کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے ہمت بڑھائی جائے‘۔

بعض سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فرانس کی قانونی سکیولر اقدار کے متضاد ہے۔

مارسے کے دو اضلاع کے میئر کا کہنا ہے کہ ’اس نام نہاد فیشن کو تسلیم کرنے کا مطلب ہمارے ملک میں فرقہ پرستی کو تسلیم کرنا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ خواتین کے وقار کا سوال ہے، سب سے بنیادی اصولوں کا سوال ہے۔‘

اس ایونٹ کا انتظام کرنے والے آرگنائزر سمائل 13 نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’وہ خواتین جو اس ایونٹ میں شامل ہونا چاہتی ہیں انھیں سینے سے گھٹنے تک جسم کو ڈھانپ کر آنا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ فرانس وہ پہلا یورپی ملک ہے جس نے عوامی مقامات پر مکمل چہرے کو ڈھانپنے والے اسلامی نقاب پر پابندی عائد کی تھی لیکن فرانس میں اسلامی لباس پہننے کی اجازت ہے۔

فرانس میں 50 لاکھ کے قریب مسلمان ہیں جو کہ مغربی یورپ میں سب سے بڑی مسلم اقلیت ہیں۔ تاہم ایک اندازے کے مطابق یہاں صرف دو ہزار کے قریب خواتین مکمل نقاب پہنتی ہیں۔

سنہ 2004 میں فرانس کے سکولوں میں حجاب پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

برقینی ڈے کے نام سے یہ ایونٹ مارسے کے قریب واقع سپیڈ واٹر پارک میں 17 ستمبر کو ہوگا۔ اس دن صرف دس سال سے کم عمر کے لڑکوں کو اجازت پارک میں آنے کی اجازت ہو گی۔

تاہم سپیڈ واٹر پارک یا سمائل 13 نے اس تنقید پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں