’ایران کو 40 کروڑ ڈالر کی ادائیگی تاوان نہیں تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے حال ہی میں اعتراف کیا تھا کہ لیبیا میں کرنل قدافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدۂ صدارت کی سب سے بدترین غلطی تھی

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا کہ ایران کو رواں برس کے آغاز میں 40 کروڑ ڈالر کے مساوی رقم کی ادائیگی تاوان کی مد میں نہیں کی گئی تھی۔

یہ رقم ایران میں قید پانچ امریکیوں کی رہائی کے بعد بینک ٹرانسفر کی بجائے ڈبوں میں بند کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے ایران پہنچائی گئی تھی۔

٭ ایران کی قید سے چار امریکی رہا، پابندیاں اٹھنے کا انتظار

٭ایران پر تاریخی پیش رفت سفارت کاری سے ہوئی: اوباما

٭ لیبیا میں دولتِ اسلامیہ پر امریکی فضائی حملوں کا آغاز

جمعرات کو امریکی محکمۂ دفاع میں ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر اوباما نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مغویوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کرتا ہے۔

انھوں نے کہا ’آپ میں کچھ افراد جانتے ہوں گے کہ کئی ماہ قبل جنوری میں ہم نے رقم کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا اور یہ سب خفیہ نہیں تھا۔‘

یاد رہے کہ جنوری میں امریکہ کی جانب سے سات ایرانی قیدیوں کو معافی دینے اور 14 کے ورانٹ منسوخ کرنے کے بعد ایران نے پانچ امریکی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

اِن کی رہائی کے فوری بعد امریکہ نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے سوئس فرانک اور یورو ڈبوں میں بند کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے ایران بھجوائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اوباما نے کہا کہ ایران کو رقم کی ادائیگی اُس وقت کی گئی جب جوہری پروگرام کے معاملے پر ایران سے نیوکلیئر معاہدہ طے پا گیا

وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ رقم فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے دی تھی لیکن انقلابِ ایران کے بعد یہ فروخت روک دی گئی اور اب اس سلسلے میں لی گئی رقم واپس کی جا رہی ہے۔

صدر اوباما نے کہا ’ہم رہائی کے لیے تاوان نہیں ادا کرتے۔ بہت سے امریکی مختلف ممالک میں محصور ہیں۔ میں اُن کے خاندانوں سے ملتا ہوں اور یہ بہت دل سوز ہے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ایران کو رقم کی ادائیگی اُس وقت کی گئی جب جوہری پروگرام کے معاملے پر ایران سے نیوکلیئر معاہدہ طے پا گیا۔

’گذشتہ کئی دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ ہم نے ایران سے سفارتی سطح پر بات چیت کی ہے۔‘

صدر اوباما نے میڈیا میں ایران کو دی گئی رقم پر ہونے والی تنقید پر کہا ہے کہ قابلِ ادا رقم کی عدم ادائیگی ایک ’قانونی خطرہ‘ ہے جس سے امریکہ کو اربوں ڈالر مالیت کا نقصان ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ رقم نقدی کی صورت میں اس لیے ادا کی گئی کیونکہ ایران کے ساتھ امریکہ کے بینکاری کے تعلقات نہیں ہیں ہم ایران پر عائد پابندیوں پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔‘

Image caption امریکہ نے حال ہی میں لیبیا میں اقوامِ متحدہ کی حامیت یافتہ حکومت کی درخواست پر وہاں دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ پر بمباری کی تھی

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ یہ گروہ اب بھی ایک خطرہ ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس گروہ کے قدم اکھڑ گئے ہیں اور یہ اب اپنے حملوں کا نشانہ دوسرے ملکوں کو بنا رہے ہیں۔

گو کہ شام اور عراق میں گروہ کے خلاف بڑی کارروائیاں جاری ہیں اس گروہ نے رواں برس یا تو کچھ بڑے حملے کیے یا اس کی ذمہ داری قبول کی جن میں عراق، فرانس، جرمنی اور کئی دوسرے ممالک میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ کہ ہم خوف کا شکار نہ ہوں۔ ’دولت اسلامیہ نہ تو امریکہ کو شکست دے سکتی ہے اور نہ اس کے نیٹو اتحادیوں کو۔ اگر ہم نے غلط فیصلہ کیے تو ہم خود ہی اپنے آپ کو شکست دیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ کل 67 ممالک کی قیادت میں امریکہ دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کی مشترکہ مہم جاری رکھے گا۔

اسی بارے میں