’ترکی کا عدالتی نظام آزادانہ انصاف سے عاری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption فتح اللہ گولن گذشتہ ماہ ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں

امریکہ میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن نے ترک حکام کی جانب سے ان کے خلاف بغاوت کی کوشش کے الزام میں جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ترکی کا عدالتی نظام آزادانہ انصاف سے عاری ہے، یہ وارنٹ صدر اردوغان کی جانب سے آمریت کی جانب اور جمہوریت سے دور جانے کی ایک اور کوشش ہے۔‘

٭ گولن تحریک کیا ہے؟

٭ گولن کے ادارے دنیا بھر کے لیے خطرہ ہیں: مولود اوغلو

ترک حکومت بغاوت کی ناکامی کے بعد سے امریکہ سے انھیں ترکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور جمعرات کو اس سلسلے میں ان کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق وارنٹ میں 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے لیے فتح اللہ گولن کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 15 جولائی کو ناکام بغاوت کے بعد سے ہی ترکی امریکہ سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے

فتح اللہ گولن نے اس سے قبل بھی گذشتہ ماہ ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا تاہم ترکی کی حکومت کا اصرار ہے کہ بغاوت کی یہ کوشش انھی کے کہنے پر کی گئی تھی۔

گولن کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم روادار اسلام کی تبلیغ کرتی ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس ماہ کے اواخر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔

اس بات کا انکشاف صدر طیب اردوغان نے ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی کو دیے گئے بیان میں کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا: ’میرے خیال میں ان کے وزیر خارجہ 21 اگست کو آرہے ہیں۔‘

صدر اردوغان نے یہ بھی کہا تھا کہ ترکی کی جانب سے وزارت خارجہ اور وزارت انصاف پر مشتمل ایک وفد امریکہ کا دورہ کرنے والا ہے جہاں وہ فتح اللہ گولن کے بغاوت کی کوشش میں ملوث ہونے سے متعلق امریکی حکام کو شواہد پیش کرے گا۔

اسی بارے میں