حجاب بمقابلہ بکنی، ثقافتی تفریق یا ثقافتی ملاپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمنی اور مصر کی بیچ والی بال کی ٹیموں کے مابین میچ کی تصاویر نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی

برطانوی اخبار ٹائمز کی نظر میں یہ تصویر ثقافتی تصادم ہے جبکہ ڈیلی میل کی نظر یہ ثقافتی تفریق کی شکل ہے۔

اولمپکس مقابلوں میں جرمنی اور مصر کی بیچ والی بال کی ٹیموں کے مابین میچ کی تصاویر نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی ہے۔ لوگوں کی توجہ ٹیموں کی فتح یا ہار پر نہیں بلکہ ساری توجہ اس پہلو پر ہے کہ خاتون کھلاڑیوں نے کیا پہن رکھا یا کیا نہیں پہن رکھا ہے۔

جرمنی اور مصرکی خواتین ٹیموں کے بیچ والی بال کی تصاویر پر سوشل میڈیا پر خوب بحث ہوئی۔

ایک اخباری کالم نگار بین ماشل نےاپنی ٹویٹ میں لکھا: ’حجاب بمقابلہ بکنی۔ یہ کتنا بڑا ثقافتی تصادم ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ

سی این این کے بل ویئر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ بیچ والی بال میچ کی تصویر لگا کر سوال کیا: کیا آپ کو اسے ثقافتی تصادم سمجھتے ہیں یا کھیل کی لوگوں کو قریب لانے کی طاقت؟

آکسفورڈ ڈکشنری میں ثقافتوں کےملاپ سے پیدا ہونے والے تنازعے اور اختلاف کو ثقافتی تصادم قرار دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لندن اولمپکس میں برازیل کی ٹیم نے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپے والے لباس پہنے کو ترجیج دی

لیکن برازیل کے شہر کوپاچابانا جہاں مصر اور جرمنی کی خواتین کی ٹیموں کے مابین بیچ والی بال کا مقابلہ ہو رہا تھا وہاں تصادم کی کوئی فضا نہیں تھی۔ البتہ سوشل میڈیا پر ظاہر ہونے والے ردعمل سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کچھ لوگوں کے لیے ثقافتی دھچکا ضرور تھا۔

2012 تک اولمپکس کے بیچ والی بال کے مقابلوں کے کھلاڑیوں کے لیے بکنی پہننا لازم تھا۔ اولمپکس رولز کے خواتین کے مختصر ترین بنانے کے لیے لباس کی ایک حد مقرر تھی۔ کچھ لوگوں کی نظر میں ان ڈریس قواعد کا مقصد صرف اور صرف کھیل کو ’سیکسی‘ بنانا مقصود تھا۔

آسٹریلیا کے سپورٹس کمیشن نے بیچ والی کےلیے خواتین کے ڈریس کے حوالے سے شکایت درج کرائی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس پابندی کا مقصد لوگوں کی توجہ کھلاڑیوں کے جسموں پر مرکوز کرنا ہے نہ کہ ان کے کھیل پر ۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دوعا الگوباشی کی ساتھی ندا موید نے ننگے سر کھیل میں حصہ لینے کی ترجیح دی

البتہ 2012 میں لندن میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں خاتون کھلاڑیوں کو شارٹ پہننے، لمبی آستین والی شرٹ پہننے کی اجازت مل گئی۔ لندن کے سرد موسم کی وجہ سے برازیل کی ٹیم نے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپے والے لباس پہنے کو ترجیج دی۔

مصر کی دوعا الگوباشی پہلی اولمپیئن ہیں جنھوں نےحجاب پہن کر اولمپکس میں شرکت کی۔ یہ پہلا موقع ہے اولمپکس میں حجاب پہن کی کھیل میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

دوعا الگوباشی کہتی ہیں: ’میں گذشتہ دس برسوں سے حجاب پہن رہی ہوں۔ حجاب مجھے کسی ایسے چیز سے نہیں روکتا جسے میں پسند کرتی ہوں اور بیچ والی بال ان میں سے ایک ہے۔‘

دوعا الگوباشی کی ساتھی ندا موید نے ننگے سر کھیل میں حصہ لینے کی ترجیح دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایران کے خبر رساں ادارے نے اس میچ کی تصویر شائع کی لیکن جرمن کھلاڑی کی تصویر کو دھندلا کر دیا

ہیومن رائٹس واچ کے اینڈریو سٹرولین نے ایک تصویر ٹویٹ کی جس کے نیچے کیپشن تھا اس تصویر میں کیا خرابی ہے۔ لوگوں کی اچھی خاصی تعداد نے کہا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔

ایران کی تنسیم نیوز ایجنسی نے عالمی دلچسپی کی اس تصویر کو شائع ضرور کیا لیکن جرمن کھلاڑی کی تصویر کو دھندلا کر دیا تاکہ ایرانی قارئین کو دھچکا نہ لگے۔

کچھ لوگوں کو حجاب سے مسئلہ ہے جبکہ کچھ کو مختصر لباس سے۔

مردوں والی بال سوٹ خواتین کے سوٹ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

اسی بارے میں