’اقوام متحدہ کے امدادی کارکن نے حماس کی مدد کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Israel Security Agency
Image caption اسرائیل کا کہنا ہے کہ وحید بورش نے حماس کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کیا

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے امدادی کارکن پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی مدد کرنے کے لیے اپنا عہدہ استعمال کرنے کے باعث مقدمہ درج کیا ہے۔

اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی شین بیٹ کا کہنا ہے کہ وحید بورش نامی شخص اقوام متحدہ کے ڈیویلوپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے ساتھ سنہ 2003 سے غزہ میں کام کر رہے ہیں اور انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ وہ حماس کی مدد کر رہے تھے۔

سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وحید برش نے اقوام متحدہ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے فوجی بند اور حماس کے ارکان کے گھروں کی ترجیحی بنیادوں پر تعمیر نو کروائی۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ کے امدادی ادارے ورلڈ ویژن پراجیکٹ کے سربراہ پر بھی حماس کو فنڈ جاری کرنےکے باعث مقدمہ درج کیا تھا۔

ایجنسی نے بتایا ہے کہ محمد حلبی نے لاکھوں ڈالر کی امدادی رقوم جنگی استعمال کے لیے جاری کیے۔ جبکہ محمد حلبی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

یو این ڈی پی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ الزامات انتہائی تشویشن ناک ہیں۔ ہماری اپنے تمام پراگرموں اور پراجکٹس میں کسی بھی قسم کے غلط کاموں کے لیے عدم بردشت کی پالیسی ہے۔‘

تنظیم نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وحید بورش کے خلاف مناسب مقدمہ چلایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وحید بورش کو حماس کی جانب سے یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یو این ڈی پی کے پراجیکٹ سے انھیں فائدہ ہو۔

اسرائیل سکیو رٹی ایجنسی نے بتایا ہے کہ بورش نے ایسی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے کہ جن سے حماس کو مدد ملی ہے۔

شین بیٹ کے مطابق وحید بورش نے انکشاف کیا ہے کہ امدادی تنظیموں کے لیے کام کرنے والے دیگر فلسطینی بھی حماس کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں