حلب: پانی کی بندش سے 20 لاکھ آبادی کو خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب میں 20 لاکھ افراد زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ شامی شہر حلب میں اگر فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو وہاں موجود بچے آلودہ پانی اور گرمی کے باعث بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

٭ اقوامِ متحدہ نے شام میں اپنی غیر جانبداری کھو دی

٭ شامی ہسپتال میں بمباری، نومولود بچے اور خواتین زخمی

اقوامِ متحدہ کے مطابق حلب میں پانی اور بجلی کے نظام کی مرمت اور بحالی کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

بتایا گیا ہے کہ وہاں موجود 20 لاکھ افراد زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں حکومت اور باغی گروہوں کے درمیان جنگ میں شدت آئی ہے۔

جولائی کے آغاز میں جب حکومت نے حلب کے مشرق میں مرکزی راستے کو بند کر دیا تھا تب سے اب تک کے اعداد وشمار کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو باغیوں نے شہر کے مغرب سے حکومتی راستے کو بند کر دیا تھا تب سے حکومت کی حامی فوج کی جانب سے شدید بمباری کی جا رہی ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ چار دن سے شہر میں پانی نہیں آرہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب شہر میں پانچ سال سے جاری جنگ کے دوران ہونے والی تباہی کی ایک جھلک

شام میں یونیسیف کے نمائندے ہانا سنگر کے مطابق بچے اور خاندان حلب شہر میں قیامت خیز صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شید گرمی اور گندے صاف پانی نہ ہونے کے باعث بچوں کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق اور وہ بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حلب میں جمعے کو درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے تک مکمل جنگ بندی ضروری ہے تاکہ محصور آبادیوں تک خوراک اور ادویات پہنچائی جا سکیں۔

حلب کبھی شام میں آثارِ قدیمہ کا مرکزی صنعتی شہر تھا۔ یہ علاقہ پانچ سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران تا تو تباہ ہوا یا وہاں لوٹ مار کی گئی۔

اسی بارے میں