منبج کی دولتِ اسلامیہ سے آزادی پر جشن

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption منجب میں سگریٹ پینے کے جرم میں لوگوں کی انگلیاں کاٹ دی جاتی تھیں

شمالی شام کے شہر منبج کے مکین علاقے سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر اپنی آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔

٭ حلب میں کلورین گیس کے حملوں کی تحقیقات

٭ پانی کی بندش سے 20 لاکھ آبادی کو خطرہ

شہر کی گلیاں مقامی افراد سے بھری ہوئی دکھائی دے رہی ہیں یہاں کے مکین دو سال تک اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے حتیٰ کہ انھیں سگریٹ پینے اور شیو کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

امریکہ کی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں نے 73 دن تک ترکی کی سرحد سے متصل اس علاقے سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے جنگ لڑی۔

2000 افراد جنھیں انسانی ڈھال بنایا گیا تھا وہ بھی اب آزاد ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنجوؤں نے 73 دن تک ترکی کی سرحد سے متصل اس علاقے سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے جنگ لڑی

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منبج کے مکینوں نے اپنی گفتگو اس مقام کی نشاندہی بھی کی جہاں دولتِ اسلامیہ لوگوں کے سر تن سے جدا کرتی تھی۔

ایک مکین نے بتایا کہ یہ سب ناانصافی تھی اور وہ ’کسی بھی چیز کے لیے یا پھر اس غلطی کے لیے کہ وہ خدا کو نہیں مانتے وہ ان کا سر کاٹ دیتے تھے۔‘

ایک خاتون جو کہ چیخ رہی تھی اور کمزوری سے گر رہی تھیں نے روئٹز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں خوشی محسوس کر رہی ہیں یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے میں خواب دیکھ رہی ہوں،مجھے یقین نہیں آ رہا، مجھے یقین نہیں آ رہا،جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ کسی نے نہیں دیکھا۔‘

ایک اور خاتون نے جنگ لڑنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا ’تم ہمارے بچے ہو، تم ہمارے ہیرو ہو، تم ہمارے دل کا خون ہو، تم ہماری آنکھیں ہوت نکل جاؤ داعش۔‘

دولتِ اسلامیہ کے زیر اثر زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ کے حلاف لڑنے والے جنگجواب رقہ کی جانب پیش قدمی کا اراد رکھتے ہیں

سنہ 2014 میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عراق کے شہر موصل میں خواتین کو پردہ کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور جو عورت اپنے ہاتھ بھی ڈھانپنے سے انکار کرتی تھی اس کے لیے کم ازکم سزا کوڑے تھی۔

اسی طرح سگریٹ پینے والے کی انگلیاں کاٹ دی جاتی تھیں۔ ایک مرد کا علاج کرنے کے جرم میں ایک خاتون ڈینٹیسٹ کو قتل کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ نماز کی پابندی کے لیے نگرانی بھی کی جاتی تھی۔

شامی ڈیموکریٹک فورسز کے اتحاد میں طاقتور کرد ملیشیا بھی شامل ہے۔ ان کی مدد دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کے ذریعے امریکی اتحاد کر رہا ہے۔

حلب اور رقہ جانے والے راستےمنبج سے ہی گزرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملیشیا کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی سے دعولتِ اسلامیہ اب یورپ کی جانب نہیں بڑھ سکتی

برطانیہ سے شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک گروپ (سریئن آبزرویٹری گروپ) کے مطابق لگ بھگ 50 کاریں شہر سے نکلیں جن میں دولتِ اسلامیہ کے ممبران اور شہری شامل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرق کی جانب جرابلس نامی دیہات کی جانب بڑھ رہے تھے جو کہ ترکی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

ملیشیا کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی سے دعولتِ اسلامیہ اب یورپ کی جانب نہیں بڑھ سکتی۔

ایک کرد رہنما صالح مسلم نے کہا کہ ’منبج کا قبضہ ختم ہونے کے بعد دولتِ اسلامیہ کے اراکین آزادی سے یورپ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب منبج کے بعد اتحادی افواج کا ارادہ رقہ کی جانب بڑھنے کا ہے۔

رقہ شہر کی آبادی ڈھائی سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔

دوبرس قبل جب دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق کے متعدد علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا تھا تب سے یہ شہر ایک طرح سے دولتِ اسلامیہ کی ’حلافت‘ کا ڈی فیکٹو دارالحکومت کہلاتا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں کے علاوہ دولتِ اسلامیہ پر روس کی مدد سے لڑنے والی شامی حکومت کی فوج کے دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

دو روز قبل روسی بمباری کے نتیجے میں شہر میں پانی کی سپلائی بند ہوگئی تھی۔

اسی بارے میں