’ٹرمپ کو اس بھیڑ سے دور لے جاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ gett
Image caption رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بیٹی ایوانکا کے ساتھ

’عزیزی ایوانکا

’تمہارے والد کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ دن بہ دن ان کی حالت بگڑتی ہی جا رہی ہے۔ ان کو مدد کی ضرورت ہے۔ کچھ کرو۔ انھیں اس بھیڑ سے دور لے جاؤ۔‘

یہ خط معروف دستاویزی فلم ساز مائیکل مور نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سب سے چہیتی صاحبزادی ایوانكا ٹرمپ کے نام تحریر کیا ہے۔

ایک اور صاحب نے بھی ایوانكا کو مشورہ دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے والد کو لے کر ’سیر پر نکل جائیں، مارٹینی کی چسكي لیں اور زندگی کے مزے لوٹیں۔ سیاست اب بہت ہوگئي۔‘

ویسے یہ تجویز بری نہیں ہے۔

دیکھا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ایک سال میں جو کچھ کر دکھایا وہ برسوں سے کوئی نہیں کر پایا۔

امریکہ کی بورنگ سیاست کو انھوں نے بالکل ریئلٹی شو کی طرح مصالحے دار بنا دیا ہے۔وہ ہر دن کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دیتے ہیں کہ آپ کوئی بھی نیوز چینل دیکھیں، ویب سائٹ پر چلے جائیں، صرف ٹرمپ، ٹرمپ، ٹرمپ کی ہی گونج سنائی دیتی ہے۔

Image caption فلم ساز مائیکل مور نے ایوانکا کو اپنے والد کو سیر پر لے جانے کا مشورہ دیا ہے

ٹرمپ نے سیاست کو صحیح معنوں میں مذاق نہیں تو مزاحیہ ضرور بنا دیا ہے۔ ایک بیان دیتے ہیں، میڈیا میں ہنگامہ مچ جاتا ہے اور پھر کہتے ہیں میں نے تو بس مذاق کیا تھا۔

کبھی روتے ہوئے بچے کو اپنی ریلی سے باہر نكلوا دیتے ہیں، کبھی وہ ان ویڈیوز کو دیکھنے کا دعوی کرتے ہیں جو کسی اور نے دیکھی ہی نہیں، کبھی ہلیری کو بندوق کی دھمکی دے ڈالتے ہیں، کبھی روس کو امریکہ میں نقب لگا کر کلنٹن کے ای میل چرانے کی بات کرتے ہیں اور پھر سکول کے بچے کی طرح کہہ دیتے ہیں کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔

امریکی کامیڈی شوز کی مقبولیت ان دنوں میں نے دیکھی نہیں ہے لیکن میرا اندازہ ہے کہ وہ کم ہوگئی ہو گی۔ آخر جب 24 گھنٹے کامیڈی چل رہی ہو تو رات کےگیارہ بجے تک جاگ کر کامیڈی شو کا انتظار کوئی کیوں کرے۔

اتنے بھولے بھالے انسان کی سیاست میں کیا ضرورت ہے؟

برطانیہ ہو، روس ہو، میکسیکو ہو، سعودی عرب ہو، بھارت ہو یا کہ پاکستان ہو، بچہ بچہ اب ٹرمپ کا نام جانتا ہے۔ کوئی انھیں سر پر بٹھا کر پوج رہا ہے تو کوئی ٹھوکر مار رہا ہے لیکن ٹرمپ کو اب سبھی جانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرمپ نے اپنی حریف امیدوار ہلیری کلنٹن کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا ہے

ایسی برانڈنگ کے بعد تو اب وقت بزنس کرنے کا ہے۔ سیاست میں کیا رکھا ہے۔

ویسے بھی سنا ہے کہ جب سے وہ اس انتخابی مہم میں آئے ہیں ان کا اپنا کاروبار تھوڑا مندا پڑ گیا ہے۔

ٹرمپ کے ہوٹلوں اور گولف کورس میں جانے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ امریکہ کو عظیم بناتے بناتے کہیں وہ خود کنگال نہ ہو جائیں۔

جو انسان میکسیکو کی سرحد پر ایسی اونچی دیوار بنانے کی بات کر رہا ہو جس کو پار کر کے کوئی امریکہ میں گھس نہ سکے، اس کے اپنے گھر یعنی 58 منزلہ ٹرمپ ٹاور کی دیوار پر ایک سر پھرا 21 ویں منزل تک چڑھ آیا اور نیویارک کی ٹریفک ٹھپ ہوگئی۔

جس رپبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر وہ انتخابات میں کھڑے ہیں اس کے بڑے بڑے لیڈر اب کہہ رہے ہیں کہ پارٹی فنڈز کا استعمال ٹرمپ کے انتخابات میں نہیں بلکہ امریکی کانگریس کے انتخابات میں کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NEW YORK POLICE
Image caption ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ کی عمارت کی 21 ویں منزل تک اس طرح پہنچا تھا

ایسے میں تو سیاست کو بور لوگوں کے حوالے کر کے ٹرمپ کو اپنی دنیا میں جانے کا مشورہ دینے والوں کی باتیں انھیں سن لینی چاہیں۔

شین وارن کی طرح پورے فارم میں رہتے ہوئے ریٹائر ہوں گے تو اس کا انداز ہی کچھ اور ہوگا۔ ورنہ، نام نہیں لوں گا، لیکن کئی ایسی عظیم شخصیات ہوئی ہیں جنھیں لوگ سامنے تو سراہتے رہے تاہم پیچھے سے کہتے تھے، کب جائے گا، والی حالت نہ ہو جائے۔

پرائمری مقابلوں میں 17 امیدواروں کو شکست دے کر انھوں نے ایک تاریخ رقم کی۔ اگر انتخابات سے ڈھائی ماہ قبل امیدواری واپس لے لیں، تو وہ بھی ایک تاریخی فیصلہ ہی ہوگا۔

لوگ انھیں برسوں تک یاد کریں گے، دنیا بھی چین کا سانس لے گی۔

اسی بارے میں