ترک پولیس کے استنبول میں عدالتوں کے بعد کمپنیوں پر چھاپے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ مربوط چھاپے مشرقی استنبول کے علاقوں اوسکودر اور عمرانیہ میں میں مارے گئے

ترکی میں سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی تحقیقات کے لیے پولیس نے 44 کمپنیوں کے 120 سربراہوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے ہیں۔

پراسیکیوٹرز نے استنبول کی جن کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے ان پر امریکہ میں مقیم اسلامی مبلغ فتح اللہ گولن کی تحریک کے لیے فنڈ جاری کرنے کا شبہہ ہے۔

خیال رہے کہ مبلغ فتح اللہ گولن پر ناکام فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

٭’مسلح افواج پر براہ راست کنٹرول چاہتا ہوں‘

٭ترکی کا درجنوں میڈیا ادارے بند کرنے کا اعلان

٭’ترکی کی ناکام بغاوت میں 9000 فوجیوں نے حصہ لیا‘

انادولو خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ مل کر یہ مربوط چھاپے مشرقی استنبول کے علاقوں اوسکودر اور عمرانیہ میں میں مارے گئے۔

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترک حکومت کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار اور نوکریوں سے برخاست یا معطل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے استنبول کی تین عدالتوں پر بھی چھاپے مارے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترک حکومت نے ملک میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار اور نوکریوں سے برخاست یا معطل کیا ہے

ترک حکام نے 170 سے زیادہ عدالتی عملے کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جن افراد کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان میں پراسیکیوٹرز یعنی حکومتی وکلا بھی شامل تھے۔

اطلاعات کے مطابق ان چھاپوں کے دوران متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

مقامی خبر رساں ادارے دوگن کے بقول گرفتار افراد کو استنبول کے مختلف پولیس سٹیشنز میں منتقل کر دیا گیا اور گرفتار افراد کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی۔

ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ماہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے پیچھے امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور حکومتی عہدوں پر فائز ان کے حامیوں کا ہاتھ ہے تاہم فتح اللہ گولن اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں