مصر کی پریزینٹرز دبلی ہونے تک معطل

تصویر کے کاپی رائٹ CHANNEL 2
Image caption لوگ ان کی حالیہ ٹیلی وژن پروگرام دیکھ کر خود فیصلہ کریں کہ کیا وہ ’واقعی موٹی ہیں: خدیجہ

مصر کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی آٹھ خاتون پیش کاروں کو معطل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنا وزن کم کریں۔

اس فیصلے سے مصر میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

مصر میں ریڈیو اور ٹیلی وژن کی یونین نے خواتین کو ایک ماہ کا وقت دیا ہے تاکہ وہ دوبارہ سکرین پر آنے سے پہلے دبلی ہو جائیں۔

الیوم السابع نامی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ مصری نشریاتی ادارے کی ڈائریکٹر بھی ایک خاتون ہی ہیں اور وہ بھی سرکاری ٹی وی پر ایک سابق پریزنٹر ہیں۔

اس فیصلہ سے متاثرہ ایک پریزنٹر خدیجہ خطاب کا کہنا ہے کہ لوگ ان کی حالیہ ٹیلی وژن پروگرام دیکھ کر خود فیصلہ کریں کہ کیا وہ ’واقعی موٹی‘ ہیں اور کیا واقعی نھیں کام کرنے سے روکا جانا چاہیے۔

ایک دوسری خاتون کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان کا خاندان کافی پریشان ہوا ہے اور اس معاملے کو اندرونی طور پر حل کیا جانا چاہیے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ERTU
Image caption سوشل میڈیا پر ایک خاتون نے اس فیصلے پر سرکاری نشریاتی ادارے کی ڈائریکٹر کو ’مضبوط خاتون‘ کہا ہے

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’وومن سنٹر فار گائیڈینس اینڈ لیگل اویئرنیس‘ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یہ عورتوں کے خلاف تشدد کی ایک قسم ہے۔

اس تنقید کے باوجود مصر کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذرائع نے ویٹو نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ یہ فیصلہ تبدیل نہیں کیا جائے گا تاہم ان خواتین کی تنخواہ اور دیگر مراعات روکی نہیں جائیں گے۔

مصر میں میڈیا کے مبصرین بحث کر رہے ہیں کہ آیا پریزنٹرز کی معطلی کا فیصلہ جائز تھا یا نہیں۔

سرکاری روزنامے الارحم کی صحافی فاطمہ الشاراوی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ پالیسی تمام مقامی ٹیلی وژن چینلز پر بھی اپنائی جانی چاہیے۔ تاہم مصنف اور ماہر تعلیم وحید عبدالماجد کا خیال ہے کہ ٹیلی وژن چینل کو اپنے مواد کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ پریزنٹرز کے ظاہر پر۔

سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے کچھ لوگ ان خواتین کے حق میں ہیں جبکہ باقی انھیں موٹا کہہ رہے ہیں۔ ایک خاتون نے اس فیصلے پر سرکاری نشریاتی ادارے کی ڈائریکٹر کو ’مضبوط خاتون‘ کہا ہے۔

اسی بارے میں