ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم میں پھر تبدیلیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے اُسی انداز کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار نے دو ماہ کے عرصے میں دوسری مرتبہ اپنی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم میں تبدیلیاں کرتے ہوئے نئے چیف ایگزیکٹیو افسر اور نئے منیجر کا تقرر کیا ہے۔

پولسٹر کیلیانے کونوے اب نئے مینیجر بنے ہیں جبکہ سٹیفن بینن انتخابی مہم کے نئے چیف ایگزیکٹیو افسر ہوں گے۔

تاہم پال مینافرٹ کو مہم کے لیے چیئرمین کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے۔

ٹرمپ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ نئے رہنما ’لاجواب لوگ ہیں اور وہ چیمپیئن ہیں۔‘

گذشتہ ماہ پارٹی کنونشن کے بعد سے ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

اے پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بینن اور کونوے کو طویل عرصے سے جانتا ہوں۔ یہ لاجواب لوگ ہیں ، یہ فاتح ہیں، یہ چیمپیئن ہیں اور ہمیں جیتنا ہے۔‘

اے پی کے مطابق ان دونوں کی تقرری منگل کو سینیئر سٹاف کے اہم اجلاس کے بعد عمل میں آئی ہیں اور امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں کچھ مزید تقرریاں ہوں گی۔

اکتوبر میں بلومبرگ کے ایک تجزیہ میں بینن کو امریکہ سے سب سے خطرناک سیاسی کارکن کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سٹیفن بینن انتخابی مہم کے نئے سی ای او ہوں گے

جبکہ مس کونوے ماضی میں دو اہم رپبلکن رہنماؤں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

گو کہ پال مینافرٹ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے تاہم یہ نئی تقرریاں ان کے مقام کی تنزلی کو ظاہر کرتی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کی مہم چانے والے دیگر لوگ مینافرٹ کا احترام تو کرتے ہیں لیکن چونکہ بہت کم لوگوں انھیں زیادہ جانتے ہیں۔

مینافرٹ جارج ڈبلیو بش اور باب ڈولے کے سابق مشیر ہیں۔

کئی رپبلکنز نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ اپنے جارحانہ اور متنازع بیانات پر قابو پائیں جن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے لیکن وہ اپنی انتخابی مہم کے اُسی انداز کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ رپبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

منگل کو انھوں نے کہا ’آپ جانتے ہیں میں جو ہوں وہ ہوں۔ یہی میں ہوں۔ اور میں بدلنا نہیں چاہتا۔‘

’لوگ کہتے ہیں تم بدل جاؤ گے، تم بدلو گے۔ میں بدلنا نہیں چاہتا۔ میرا مطلب ہے آپ کو ویسا ہونا چاہیے جیسے آپ ہیں۔ اگر آپ بدل جاتے ہیں تو آپ لوگوں کے ساتھ بددیانتی کرتے ہیں۔‘

قومی کنونشن کے بعد سے ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے جبکہ ان کے مقابلے میں ہلیری کلنٹن کی مقبولیت آٹھ پوائنٹ بڑھ گئی ہے۔

اسی بارے میں