رشوت دینے کی ویڈیو بنانے والی خاتون پر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Sokhna Bousso Gaye
Image caption اس ویڈیو کے مظرعام پر آنے کے بعد پولیس اہلکار پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا

سینیگال میں ایک عدالت نے ایک خاتون کو ایک پولیس اہلکار کو رشوت دینے کے جرم میں 250 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی۔

اس خاتون نے رشوت طلب کیے جانے کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔

عدالتی حکم کے مطابق اگر وہ خاتون دوبارہ ایسے کسی عمل کی مرتکب پائی گئیں تو انھیں ایک ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

اس خاتون نے یہ ویڈیو خفیہ طریقے سے بنائی تھی اور اسے سوشل میڈیا پر جاری کیا تھا۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار جرمانے کا پرچہ کاٹتا ہے لیکن پانچ ڈالر رشوت لینے کے بعد وہ کاغذ کھا جاتا ہے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس اہلکار پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا حالانکہ سینیگال میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

پولیس اہکار پر بھی 250 ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور اس قسم کے عمل کے دوبارہ مرتکب ہونے پر دو ماہ قید سنائی گئی ہے۔

گذشتہ ماہ سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں سوکھنا بوسو گائے نامی خاتون اپنی دوست کے ہمراہ گاڑی ہر جارہی تھیں جب اسان ڈیالو نامی پولیس اہلکار نے انھیں روکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sokhna Bousso Gaye
Image caption پولیس اہلکار اسان ڈیالو پانچ ڈالر لیتے ہوئے وہ ٹکٹ کھا جاتے ہیں جسے وہ بھر رہے تھے

ویڈیو میں انھیں مقامی ولوف زبان میں کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ انھیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر دس ڈالر جرمانہ کریں گے، جو انھیں پولیس سٹیشن میں ادا کرنا ہوگا۔

تاہم وہ پانچ ڈالر لیتے ہوئے وہ ٹکٹ کھا جاتے ہیں جسے وہ بھر رہے تھے۔

گاڑی میں موجود دوسری خاتون کو بھی بدھ کو گرفتار کیا تھا اور انھیں پر بدعنوانی کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔

ڈاکار میں بی بی سی نامہ نگار نیدیج سینرنزی کا کہنا ہے کہ سخت سزاؤں سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف وزی پر لوگوں کا رشوت دینا یہاں عام سی بات ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تاہم اب بدعنوانی کو منظرعام پر لانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق گذشتہ سال ایک پیدل چلنے والے پل پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کی فلم سامنے آنے پر اسے 45 دن قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں