پوتن کے ’پراسرار‘ چیف آف سٹاف

Image caption کریملن میں اتنےاہم عہدے پر پہنچنےوالے شخص کی شخصیت کو سمجھنےکے لیے لوگ ان کے مضمون کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں

روسی صدر ولادی میر پوتن نے گذشتہ ہفتے اپنے ایک قریبی ساتھی سرگے ایوانوف کو چیف آف سٹاف کے عہدے سے برطرف کیا تو کریملن میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ لیکن ان کی جگہ جس شخص کو نیا چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا ہے اس نے روسیوں کو مخمصے میں ڈال دیا ہے۔

روسی صدر کے نئے چیف آف سٹاف کا نام انتون وائنو ہے اور وہ ایسٹونیا میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کے پوتے ہیں۔ 44 سالہ وائنو اس سے پہلے جاپان میں روسی سفارت کار کے طور پر کام کر چکے ہیں اور 2003 سے روسی دفتر خارجہ میں مختلف عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

روس کےصدر پوتن نے چیف آف سٹاف کو برطرف کر دیا

وائنو کا کبھی کوئی انٹرویو نہیں چھپا اور لوگ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ کریملن میں اتنی اہم عہدے پر پہنچنے والے شخص کی شخصیت کو سمجھنےکے لیے لوگ ان کے اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ’کیپٹلائزیشن آف فیوچر‘ کے عنوان سے ’اکنامکس اینڈ لا‘ نامی جریدے میں چھپا۔ اس مضمون میں انھوں نے حکومت چلانے کے لیے نوسکوپ نامی ایک آلے کا ذکر کیا ہے جو دنیا کے حالات کا جائزہ لے کر امور مملکت چلانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

بی بی سی نے انتون وائنو کو سمجھنے کے لیے ان کے تعلیمی کاموں کی کچھ تفصیلات حاصل کی ہے جن سے ان کی شخصیت اور خیالات پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔

وائنو کے پاس اکنامکس میں ماسٹرز ڈگری ہے اور کچھ سائنسی جریدوں میں ان کے مضامین شائع ہو چکے ہیں۔

ان کے ایک مضمون جو 2012 میں ’اکنامکس اینڈ لا‘ نامی جریدے میں اے کے وائنو کے نام سے شائع ہوا۔ عام تاثر یہ ہے یہ مضمون اسی انتون وائنو کا ہے جنھیں روسی صدر کا چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انتون وائنو کے مضمون میں یہ چارٹ بھی چھپا ہے جسے ابھی تک کوئی ابھی تک سمجھ نہیں پایا

روسی ماہرین کا کہنا کہ گاڑھی نثر میں لکھے جانے والا یہ مضمون ان کی سمجھ کی بالاتر ہے۔ نہ صرف یہ کہ یہ مضمون ایسی ثقیل زبان میں لکھا گیا ہے جس سے مطلب اخذ کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے، بلکہ اس مضمون میں ایسے چارٹ اور خاکے بھی چھاپے گئے ہیں جو ابھی تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکے۔

وائنو اس مضمون یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ معاشرے کو سمجھ کر اسے کیسے منظم کیا جا سکتا ہے۔

وہ اس مضمون میں کہتے ہیں کہ معاشرہ اور معیشت بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں اور روایتی طریقوں کے ذریعے انھیں سمجھنا ممکن نہیں رہا ہے اور حکومتوں کو معاشروں کو منظم کرنے کے لیے نئے طریقے بروئے کار لانے ہوں گے۔

اسی مضمون میں وہ ’نوسکوپ‘ نامی آلے کا ذکر کرتے ہیں جو ان کے مطابق عالمی شعور کا ادراک کر کے کرۂ ارض اور انسانی سرگرمیوں میں تبدیلیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

نوسکوپ نامی اس آلے نے روسیوں کو حیران کر دیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ کیا واقعی اس طرح کا کوئی آلہ موجود ہے اور اگر ہے تو اس کی افادیت کیا ہے۔

بی بی سی کی روسی سروس نے ایوارڈ یافتہ ماہر معاشیات اور کاروباری شخصیت وکٹر سراییو کو ڈھونڈ نکالا جنھوں نے وائنو کے ساتھ مل کر مضامین لکھ رکھے ہیں۔

وکٹر سراییو کہتے ہیں کہ نوسکوپ ایک ایسا آلہ ہے جو انسان، اشیا اور زر کے مابین لین دین کو ریکارڈ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نوسکوپ بھی ٹیلی سکوپ اور مائیکروسکوپ جیسی ایک ایسی ایجاد ہے۔ لیکن وکٹر سراییو یہ بتانے سے گریزاں تھے کہ واقعی کوئی ایسی ایجاد ہو چکی ہے یا تیاری کے مرحلے میں ہے۔

خیالی تصور

روسی ماہرین تعلیم وائنو اور ان کے ساتھیوں کے فلسفے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماسکو کے ہائر سکول آف اکنامکس میں فلسفے کے پروفیسر سمن کاردونسکی کہتے ہیں”اس میں کوئی سائنس نہیں ہے۔‘

پروفیسر کاردونسکی نے انتون وائنو کے مضمون کے بارے میں کہا کہ ایک ’دیومالائی مفروضہ‘ معلوم ہوتا ہے۔

اسی ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک اور پروفیسر وٹالی کورینوئے کہتے ہیں کہ یہ مضمون ایک ایسے خیالی تصور کو بیان کرتا ہے جس کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ایک ایسے نظامِ حکومت کا نفاذ چاہتا ہے جسے صرف اعلیٰ حکام ہی نافذ کر سکتے ہیں۔

کچھ لوگ وائنو کا موازنہ صدر پوتن کے سابق مشیر ولادسلیو سرکوف سے کر رہے ہیں جنھوں نے ’مینیجڈ ڈیموکریسی‘ یعنی منضبط جمہوریت کی اصطلاح پیش کی اور جس پر عمل کر کے صدر پوتن روس کے بلاشرکت غیرے حکمران ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

روس کے ’سپن ڈاکٹر‘ کے طور پر جانے جانے والے دیمتری کسیلوف نےگذشتہ برس بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ’غیر جانبدارانہ صحافت‘ کا وقت گزر چکا ہے۔

کچھ لوگوں کے خیال میں وائنو درحقیقت اپنی ’نوسکوپ‘ تھیوری کے ذریعے کریملین کے اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کے خیالات آگے بڑھا رہے ہیں۔

وائنو اپنے اسی مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ دنیا واقعی موجود ہے یا یہ صرف ہمارے تخلیل میں ہی آباد ہے۔‘ وہ لکھتے ہیں واقعات کی تشریح اور ان کا نگرانی کے لیے نوسکوپ کی ضرورت ہے۔

پروفیسر کوردونسکی کہتے ہیں: یہ (نوسکوپ تھیوری) ایک ذہنی کیفیت ہے جو موجودہ حقائق کو رد کرتی ہے۔ وہ چیزوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے لیکن زمینی حقائق کو سمجھے بغیر۔ ان کے ذہن میں عظمت کا ایک تصور ہے اور وہ بہتر مستقبل کے لیے ملک کو بدلنا چاہتے ہیں۔‘

اگر ماہر سیاسیات اے کے وائنو اور چیف آف سٹاف انتون وائنو درحقیقت ایک ہی شخص کا نام ہے تو نوسکوپ شاید آنے والے مہینوں میں روسیوں کو بہتر مستقبل کی جھلک دکھا سکے۔

اسی بارے میں