اسامہ آپریشن پر کتاب کی کمائی حکومت کو ملے گی

Image caption امریکی فورسز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا

اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی میں حصہ لینے والے امریکی نیوی سیل جنھوں نے اس واقعے کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی، امریکی حکومت کو تقریباً سات ملین ڈالر ہرجانے کے طور ادا کریں گے۔

میٹ بسنیٹ نامی اس امریکی فوجی نے سنہ 2012 میں یہ کتاب لکھی تھی اور اس سلسلے میں انھوں نے امریکی محمکہ دفاع پینٹاگون سے پشگی اجازت نہیں لی تھی اور ان پر راز داری کے قانون کی خلاف ورزی کا مقدمہ چل رہا تھا۔

سابق امریکی سیل اس بات پر رضا مند ہو گئے ہیں کہ اپنی کتاب سے حاصل ہونے والا تمام منافع وہ حکومت کو دے دیں گے۔ میٹ اس کے ساتھ فلم کے حقوق سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں۔

اس پیش رفت کے بعد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ میٹ پر کیے جانے والے دیگر ہرجانے کے کیس ختم کر دے گی۔

خیال رہے کہ سنہ 2011 میں امریکی فورسز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا اور ان کی میت کو سمندر برد کر دیا تھا۔

امریکی ریاست ورجینیا کی ایک عدالت میں میٹ کی جانب سے داخل کیے گئے بیان میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ کتاب شائع کرنے سے قبل انھوں نے پینٹاگون سے اس کی اجازت نہیں لی تھی۔

میٹ نے اپنے بیان میں معافی بھی مانگی ہے اور کہا ہے کہ انھیں وکیل کی جانب سے غلط مشورہ دیا گیا تھا۔

امریکی نشریاتی ادرے سی بی ایس کے مطابق سابق سیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی، میں دوسروں سے درخواست کروں گا کہ وہ کبھی ایسا نہ کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اپنے ساتھیوں کی زندگیاں خطر میں ڈالنا میرا مقصد نہیں تھا، اب میں یہ دیکھ سکتا ہوں کہ اس کتاب کی اشاعت سے قبل اجازت نہ لے کر میں نے اپنے ساتھیوں اور ان کے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا جس کے لیے میں خصوصی طور پر شرمندہ ہوں۔‘

اسی بارے میں