حلب میں جنگ بندی کی روسی پیشکش کا خیر مقدم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چار ماہ سے اقوامِ متحدہ کے ایلچی شام میں محوِ جنگ فریقین سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ عارضی جنگ بندی کر لیں تاکہ حلب میں محصور 20 لاکھ عام شہریوں تک دوائیں اور خوراک پہنچائی جا سکے

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی نے روس کی جانب سےحلب میں امداد کی فراہمی کے لیے 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔

سٹیفن ڈی مستورا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے تاہم انھوں نے زور دیا کہ اب روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کو راضی کرے۔

حلب: پانی کی بندش سے 20 لاکھ آبادی کو خطرہ

* حلب کے زخمی بچے کی تصویر پر غم و غصہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ بھی شامی باغیوں کو اس بات پر قائل کرے گا کہ وہ اس جنگ بندی کا احترام کریں۔

یہ اقدام حلب میں ایک فضائی حملے کے دوران زخمی ہونے والے بچے کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں شدید غم و غصے کے اظہار کے بعد کیا گیا ہے۔

روس نے انسانی ہمدردی کے تحت 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے اور یہ یہ اقوامِ متحدہ کی غیر معمولی ناراضی کا نتیجہ ہے۔

چار ماہ سے اقوامِ متحدہ کے ایلچی شام میں جاری جنگ میں فریقین سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ عارضی جنگ بندی کر لیں تاکہ حلب میں محصور 20 لاکھ عام شہریوں تک دوائیں اور خوراک پہنچائی جا سکے۔

پانچ سالہ اومران دقنیش کی ایک ایمولینس میں تنہا بھیٹے ہوئے تصاویر سامنے آئی تھیں۔ وہ دھول اور خون سے اٹے ہوئے اور صدمے کے زیرِ اثر گم صم دکھائی دے رہے تھے۔ انھیں چند لمحے قبل ملبے سے نکالا گیا تھا۔

ان کے سر کے زخم کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت ہیں جو زندہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس بچے کے گھر کو روسی جنگی جہازوں نے نشانہ بنایا لیکن روسی وزراتِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ کبھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتے

ڈاکٹر محمد نے بی بی سی کوبتایا کہ ’وہ خوفزدہ تھا ، وہ بالکل نہیں رویا ہم نے اس کے چہرے سے خون اور دھول صاف کی۔ وہ خوش قسمت تھا کہ اس کے دماغ کو نقصان نہیں پہنچا۔

شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس بچے کے گھر کو روسی جنگی جہازوں نے نشانہ بنایا لیکن روسی وزراتِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ کبھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ کسی بارودی سرنگ یا کسی ٹینک کا دھماکہ لگتا ہے جو شدت پسند استعمال کرتے ہیں۔‘

بی بی سی کی چیف انٹرنیشل رپورٹر لز ڈیوسٹ کا کہنا ہے کہ اومران جیسی کہانیاں شام میں آئے دن ہو رہی ہیں کئی تو اس سے بھی بدترین ہیں۔

جمعہ کو ڈاکٹروں نے ایک ایسے بچے کی تصویر دکھائی جو تازہ فضائی حملے میں ہلاک ہوا جبکہ ایک دوسری تصویر میں دو زخمی بھائی بہن تھے۔

حلب کبھی شام کا صنعتی اور تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا لیکن سنہ 2012 میں یہ حکومت کے حامیوں اور باغیوں میں منقتسم ہو گیا۔

حالیہ ہفتوں میں یہاں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے اور باغیوں نے حکومتی فورسز کی مرکزی شاہراہ کو منقطع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں