شدت پسندوں کے بھیس میں، انہیں کی تلاش

انجم چودھری تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انجم چودھری اور ان کے ایک ساتھی کو حال ہی میں داعش کی حمایت کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

برطانوی شہر لیوٹن میں ایک طویل عرصے تک چلے والے خفیہ پولیس آپریشن نے انسداد دہشت گردی کے دو حالیہ مقدمات میں شواہد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس خفیہ آپریشن کے نتیجے میں ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ معلومات حاصل ہو سکیں کہ اس تفتیش کے مرکزی کردار برطانیہ سے کس حد تک نفرت کرتے ہیں۔

بھیس بدل کر شدت پسندوں کا روپ دھارنے والے پولیس کے خفیہ ایجنٹ اپنا ریکارڈر آن کرتے ہیں، مائیکرو فون اپنے منہ کے قریب کر کے تاریخ، وقت اور اس جگہ کے ذکر کرتے ہیں جہاں وہ جا رہے ہیں۔

پھر اپنی اصل شناخت کو پیچھے گھر میں چھوڑ کر وہ بہروپ کی چادر اوڑھے خطرے کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

ان کا نام نقلی ہے، بیوی نقلی ہے، گھر بھی اصل نہیں اور لیوٹن میں جس کاروبار کو وہ اپنا بتا رہے ہیں وہ بھی ان کا اپنا نہیں۔ ان کا مشن انتہائی پرخطر ہے کیونکہ اس مشن کے دوران انہوں نے کالعدم تنظیموں کے حامی شدت پسندوں سے سینکڑوں ملاقاتوں کا احوال ریکارڈ کرنا ہے۔ یہ ریکارڈ اگلے دس سال تک انسداد دہشت گردی کے درجنوں مقدمات میں کام آ سکتا ہے۔

کمال کی طرف سے فراہم کردہ شواہد نے دو حالیہ مقدمات کی سماعت کے دوران اہم کردار ادا کیا۔ انہیں شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت ہو سکا کہ کس طرح سزا پانے والے ایک شخص نے ایک امریکی فوجی کو سوفک میں واقع ہوائی اڈے کے باہر سے اغواء کرنے کی منصوبے بندی کی تھی۔

گذشتہ ہفتے اولڈ بیلی کی عدالت میں زیر سماعت آنے والے ایک اور مقدمے میں تین ملزمان کو داعش کی حمایت اور امداد کی ترغیب دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

اولڈ بیلی کی عدالت نمبر چودہ میں کمال نے پردے کے پیچھے سے اپنی شہادت ریکارڈ کروائی۔ وہ اس جگہ پر موجود تھے کہ جیوری کے ارکان تو انہیں دیکھ سکتے تھے جبکہ وہ ہمارے آنکھوں سے اوجھل تھے۔

کمال نے لیوٹن میں دو مقامات پر ہونے والے پرگراموں میں شرکت کی۔ ان میں سے ایک مقام ایک گھر کے پیچھے والے لان میں لگایا گیا تمبو تھا جبکہ دوسرا ایک میتھوڈسٹ گرجے کا ہال۔

ان پروگراموں میں شرکت کرنے والے افراد کی کل تعداد 80 کے لگ بھگ تھی اور ان میں کچھ بچے بھی تھے۔

سن 2014 میں جاڑے کےموسم میں تمبو میں ایک بینر لگایا گیا جس میں اسی سال جون میں قائم ہونے والی دولت اسلامیہ کی ’خلافت‘ کا اعلان کیا گیا تھا۔

کمال کے مطابق ان میں سے چند بچے بہت توجہ سے باتیں سن رہے تھے جبکہ کچھ دیگر بڑوں کر طرف سے انہیں خاموش کرنے کی کوششوں سے بے نیاز آپس میں باتیں کر رہے تھے۔

چھبیس جون2015 کو دولتِ اسلامیہ کے حامیوں دنیا بھر میں تین حملے کیے۔ ایک بندوق بردار نے تیونس کی ساحل پر 38 سیاحوں کو ہلاک کر دیا جن میں سے 30 برطانوی شہری تھے۔

فرانس میں امریکی فیکٹری میں کام کرنے والے ایک ملازم نے ایک اپنے افسر کو گلا کاٹ کر ہلاک کر دیا۔ جبکہ کویت میں ایک خود کش بمبار نے ایک شیعہ مسجد پر حملہ کر کے ستائیس نمازیوں کو ہلاک کر دیا۔

لیوٹن کے خمیے میں مغربی لندن سے تعلق رکھنے والے ’محمد‘ اس دن ہونے والے واقعات کا بڑے جوش سے ذکر کر رہے تھا۔

’آپ کو کافر سے نفرت کرنی ہے چاہے وہ آپ کے لیے اچھا کام ہی نہ کر رہا ہو۔‘

’آپ نے ایک جذبے سے اس سے نفرت کرنا ہے۔ تیونس میں ہلاک ہونے والے برطانوی شہریوں کے بارے میں افسوس کا اظہار مت کریں۔ فرانس میں ہلاک ہونے والے فیکٹری ورکر سے متعلق کیا ملال۔ اسی طرح کویت میں ہلاک ہونے والوں پر اظہار ہمدردی کیسا؟‘

’محمد‘ پر اس تقریر کی بنیاد پر کبھی بھی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔ لیکن محمد ہی نفرت کے بیچ بونے والے واحد شخص نہیں تھے۔ اس کے کچھ دن بعد سینٹ مارگریٹ گرجا گھر میں محمد عالمگیر نامی شدت پسند شرکاء کو بتا رہے تھے کہ برطانوی سلطنت کا سورج پہلے ہی غروب ہو چکا ہے اور اب دولت اسلامیہ کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔

’آزادی اور جمہوریت اپنی موت مر چکی ہے۔۔۔مٹھی بھر مسلمانوں، نام نہاد شدت پسند اور دہشت گرد کافر کے نظریے کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔‘

جب جج مائیکل ٹوپولسکی نے پوچھا کہ کیا کبھی کسی نے ان تقریروں سے اختلاف بھی کیا تو کمال نے نفی میں سر ہلایا۔ ’نہیں، کبھی بھی نہیں‘ اس نے بلا جھجک جواب دیا۔