برطانوی جیلوں شدت پسندوں کے لیے الگ یونٹ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانیہ کی جیلوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے

برطانیہ کی وزیر انصاف لز ٹرس جیلوں میں مخصوص سیل تیار کروائیں گی جس میں ایسے شدت پسند قیدیوں کو رکھا جائے گا جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ دوسروں کو مذہبی شدت پسندی کی جانب مائل کر سکتے ہیں۔

انھوں نے جیلوں میں مسلمانوں کی مذہبی انتظامیہ کی جانچ پڑتال کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے اور جیلوں کے کتب خانوں سے انتہا پسندی پر منبی کتابیں ہٹانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

ان اقدام کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے جس میں یہ کہا گيا تھا کہ جیلوں میں ’شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے مسائل سے لاپروائی برتی جاتی ہے۔‘

لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے بدنام مسلمان شدت پسند قیدی ہیرو بن سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے بعض خطرناک ترین قیدی جیل کی چند اکائيوں کے اندر یکجا ہو جائیں گے۔

جیلوں میں انتہا پسندی کے تجزیے پر منبی رپورٹ کے سربراہ اور جیل کے سابق گورنر ایئن ایچیسن کہتے ہیں کہ جیلوں میں شدت پسند نظریات کو چیلنج کرنے میں ادارے کی سطح پر ’بزدلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے‘ اور عملے کو یہ ڈر رہتا ہے کہیں انھیں نسل پرست نہ قرار دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ رپورٹ انجم چوہدری کی جانب سے لوگوں کو دولت اسلامیہ کی حمایت کے لیے راغب کرنے کا قصور وار ٹھہرائے جانے کے بعد آ رہی ہے

یہ رپورٹ سوموار کو شائع ہو رہی ہے لیکن سکیورٹی اسباب کے باعث اس کا صرف خلاصہ ہی شائع کیا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ سخت مذہبی قسم کے لوگ جمعے کی نماز کے لیے عملے سے چھٹی حاصل کرنے کوشش کرتے ہیں۔

ان کی تجاویز میں متشدد قسم کے انتہا پسند قیدیوں کو دوسرے قیدیوں سے علیحدہ کر کے ’بےدست و پا بنا دینا‘ بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی گئي ہے کہ سخت سکیورٹی والی جیلوں میں مخصوص یونٹ تیار کیے جائیں اور ایسے لوگوں کو باقی جیلوں سے بالکل علیحدہ کر دیا جائے۔

مسٹر ایچیسن نے کہا کہ ان کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں اصلاحی خدمات انجام دینے والا ادارہ نیشنل اوفینڈر مینجمنٹ سروس ’اسلامی شدت پسندی کے واضح خطرات کو سمجھنے اور اس کا تدارک کرنے میں بڑی حد تک غیر موثر رہا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کے نام ایک ای میل میں لکھا: ’جیل کے عملے، قیدیوں اور وسیع تر معاشرے کو بچانے کے لیے اس میں تبدیلی آنی چاہیے اور اس ضمن میں ہم نے درجنوں سفارشات پیش کی ہیں۔‘

اسی بارے میں