اسلامی جنگجو نے ٹمبکٹو کا ورثہ تباہ کرنے کا اعتراف کر لیا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایک اسلامی شدت پسند نے دا ہیگ میں بین الاقوامی کرمنل کورٹ (آئی سی سی) میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے کے دوران مالی کے شہر ٹمبکٹو کا ثقافتی ورثہ تباہ کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

احمد الفقیہہ المہدی کہا ہے کہ انھیں اپنے اعمال پر افسوس ہے۔

ان پر مالی کے شہر ٹمبکٹو میں 2012 میں تاریخی اہمیت کے حامل نو مزاروں اور ایک مسجد کی تباہی کے الزامات تھے۔

٭ ٹمبکٹو: مزارت کی تعمیرِ نو، جنگی جرائم کا مقدمہ چلائیں گے

٭ ٹمبکٹو کے تاریخی ورثے پر حملہ

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی مشتبہ اسلامی جنگجو پر آئی سی سی میں مقدمہ چلایا گیا ہے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ملزم نے آئی سی سی کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہو۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ انصارِ دین نامی ایک اسلامی شدت پسند تنظیم کا حصہ تھے جس نے ثقافتی شہر ٹمبکٹو پر کئی مہینوں کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔ اس تنظیم کی رو سے یہ آثار بت پرستی کے زمرے میں آتے ہیں۔

مہدی نے عدالت کے روبرو کہا: ’جنابِ والا، مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑا رہا ہے کہ جو کچھ میں نے اب تک سنا ہے وہ درست ہے اور حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں جرم کا اعتراف کرتا ہوں۔‘

اعترافِ جرم کے بعد توقع ہے کہ مقدمہ اسی ہفتے ختم ہو جائے گا۔ مہدی کو 30 برس کی قید ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sebastien Rieussec AFP
Image caption ٹمبکٹو 13ویں اور 17ویں صدیوں میں اسلامی علوم و فنون کا گڑھ تھا

مہدی کے خلاف آئی سی سی کی جانب سے وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد نائجر کی حکومت نے انھیں گرفتار کر کے آئی سی سی کے حوالے کر دیا تھا۔

مقدمے کے دوران عدالت میں نو متاثرہ افراد اپنے تجربات بیان کریں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان افراد کی موجودگی یہ بات ظاہر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کیسے ثقافتی ورثے کی تباہی سے نہ صرف عمارتوں کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس سے معاشرے کا سماجی، ثقافتی اور تاریخی تانا بانا بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔

اس وقت کی یونیسکو کی چیئروومن نے کہا تھا کہ مقامی پیروں کے ان مزارات پر حملہ ’ہم سب کے لیے اندوہناک خبر ہے۔‘

ٹمبکٹو مٹی اور لکڑی کے مخصوص طرزِ تعمیر کے لیے مشہور ہے۔ یہ 13ویں اور 17ویں صدیوں میں اسلامی علوم و فنون کا گڑھ تھا اور اسے 1988 میں یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹمبکٹو مٹی اور لکڑی کے مخصوص طرزِ تعمیر کے لیے مشہور ہے

انصار دین خانہ بدوش طراق قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کی شدت پسند جنگجو تنظیم ہے اور اس کے القاعدہ سے تعلقات ہیں۔ اس نے پیروں کے مزاروں کو بت پرستی کے مراکز قرار دے کر منہدم کر دیا تھا۔

مہدی کی عمر 40 برس ہے اور وہ سابق استاد ہیں۔ وہ اس تنظیم کے ’کٹر رکن‘ تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تنظیم کے اس دھڑے کے سربراہ تھے جس نے ٹمبکٹو میں اسلامی شرعی قوانین نافذ کیے تھے۔

اسی بارے میں