شام میں تصفیے کےامکانات پیدا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شام کے اردگرد بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال سے کیا شامی بحران کے حل ہونے کی اُمیدیں جگمگا رہی ہے؟

شام میں بظاہر امریکہ اور روس کا اہداف ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ ماسکو شام میں اسد حکومت کا حامی ہے اور واشنگٹن صدر اسد کی حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔لیکن دونوں گذشتہ چند عرصے سے کسی معاہدے کی کوشش میں ہیں۔

آنے والے دنوں میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کریں گے تاکہ اس بات کا اندزہ لگایا جا سکے کہ مستقبل میں کوئی مفاہمت ہوسکتی ہے یا نہیں۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان ایران جا رہے ہیں وہ اس معاملے پر ایرانی قیادت سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شام کا بحران کسی بڑی لڑائی میں تبدیل ہونے کے کتنے قریب ہے؟

گذشتہ ہفتے شام کے جنگی طیاروں نے حسکہ کے علاقوں میں کرد جنگجوؤں پر بمباری کی۔

کرد جنگجو شامی فوج کی بمباری کا بھی نشانہ بنے۔ امریکہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فوج کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی شامی طیارے کو نشانے بنانے میں ہچکچائیں گے نہیں۔

تو پھر ہو کیا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ مسائل کی جڑ کرد ہیں۔

کردوں کے لڑاکا یونٹ وائی پی جی اس وقت شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے میں امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی ہیں۔ اسد حکومت نے بھی کردوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور دونوں کے لیے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بڑا خطرہ ہے۔

آگرچہ یہ حملے دمشق کی نئی حکمت عملی ہیں اور شاید کردوں کی پیش رفت کو صدر اسد اپنے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔

ایک ایسی فضائی حدود میں جہاں روس کے جنگی طیارے بھی موجود ہیں وہاں امریکہ اور شام کے جنگی طیاروں کی آپس میں لڑائی کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔

کردوں کے پاس بھی ترکی کی حکومت سے بددل ہونے کا اصولی جواز موجود ہے۔ انقرہ کی حکومت شام میں صدر اسد کے خلاف سنی عرب جنگجوؤں کی حمایت کر رہی ہے۔

دہشت گردی کے دو خطرات

ترکی کافی عرصے سے دولتِ اسلامیہ کے خطرات سے آنکھیں چرا رہا ہے اور اس وقت ترکی کو دولتِ اسلامیہ اور کرد جنگجوؤں سے خطرہ ہے۔

ترکی کی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ماسکو اور تہران کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل کی تلاش میں ہے۔

اب ایسا لگ رہا ہے کہ شام کا بحران ایک واحد سمت یعنی کرد علاقوں کی خود مختاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انقرہ کے خیال میں اس اقدام سے ترکی کے اندر عسکریت پسندی بڑھے ہیں جس کو ترکی بنیادی خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

شام میں کردوں کی امریکی حمایت سے حالات مزید خراب ہوں گے اور انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔

ترکی کی روس کے ساتھ بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے بعد یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ شام میں روس کی مداخلت سے طاقت کا توازن تبدیل ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صدر اسد اپنی طاقت کے مطابق شام میں برسر پیکار ہیں اور حلب پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے حکومتی کوششیں اس کی واضح مثال ہے لیکن شام میں روس کے فضائی حملے اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشا اور حزب اللہ کے جنگجوؤں نے زمینی صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔

کسی طور بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صدر اسد کو مکمل کامیابی ہوئی ہے لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ اُن کا اقتدار بچ گیا ہے۔

امریکہ بھی روس کی مسلط کردہ حکمتِ عملی کوتسلیم کرنے پر مجبور ہے۔

امریکہ کا منصوبہ کہ ’نام نہاد شامی متعدل‘ جنگجو گروہ شامی افواج کا مقابلہ کریں، نہ صرف ناپختہ ہے بلکہ مضحکہ خیز لگتا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں خون بہہ رہا ہو امریکہ بے چینی سے چاہتا ہے کہ ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس میں پیش رفت نظر آئے۔

امریکہ کے سابق کمانڈر پروفیسر ٹونی کورڈرز مین کا کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ کوئی ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے دولتِ اسلامیہ اور اسلامی شدت پسند گروہوں پر بمباری کے ساتھ باقی تمام فریقوں کے ساتھ جنگ بندی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ترکی میں تناؤ کا مطلب یہ ہے کہ ایران کا اثررو رسوخ بڑھے گا اور اس سے قرقہ ورانہ اور لسانی تناؤ بڑھےگا اور شام کا مزید حصوں میں ٹوٹ جانا بھی ممکنہ خطرات میں سے ایک ہے۔

بلاشبہ اس عمل میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اب سوال یہ ہے کہ امریکہ روس پر کتنا اعتماد کرتا ہے؟

امریکہ کا محکمۂ دفاع کسی بھی معاہدے کے لیے بظاہر سرد مہری دیکھا رہا ہے۔

ایسا محسوس نہیں ہو رہا ہے کہ شام کی بطور ریاست مکمل تباہی سے پہلے وہاں اقتدار میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن ہے۔

اسی بارے میں