پیرس کی سیاحت حملوں اور ہڑتالوں سے متاثر

ایفل ٹاور تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیاحتی بورڈ کے مطابق یورپی فٹ بال چیمپیئن شپ کی انعقاد بھی آمدنی میں کمی کے اس رحجان کو نہ روک سکا۔

پیرس کی سیاحت دہشت گرد حملوں، ہڑتالوں اور سیلاب سے متاثر ہوئی ہے اور اس سال جنوری سے جون تک کے عرصے میں سنہ 2015 کےمقابلے میں دس لاکھ یا چھ اعشارہ دو فیصد کم سیاح شہر میں آئے ہیں۔

پیرس میں ہر سال ایک کروڑ 60 لاکھ سیاح آتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ دنیا بھر میں سیاحوں کی دلچسپی کا سب سے چوٹی کا شہر ہے۔

سیاحوں میں کمی کی وجہ سے پیرس کو 75 کروڑ یورو کا نقصان ہوا ہے جسے ایک سینئیر اہلکار نے ’ایک انڈسٹریل بحران‘ قرار دیا ہے۔

فرانس بہت حد تک سیاحت پر انحصار کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے حاصل ہونے والا ریونیو ملک کی مجموعی قومی آمدنی کی سات فیصد بنتا ہے۔

ایل دی فرانس کا علاقے میں، جس میں پیرس بھی شامل ہے، پانچ لاکھ افراد کا ذریعہ معاش سیاحت سے منسلک ہے جو اسے نوکریوں کا سب سے بڑا شعبہ بناتا ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے بندوق برداروں کی طرف سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سے فرانس کا سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس میں ہونے والی ہڑتالوں اور سیلاب نے بھی سیاحت کو متاثر کیا ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے تھے جب شہر چارلی ایبڈو میگزین پر جنوری 2015 کو ہونے والے حملے سے ابھی سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سیاحتی بورڈ کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ایل دی فرانس کے علاقے میں سیاحوں کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی میں گذشتہ سال کے مقابلے میں آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد کمی آئی ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سیاحوں کے سلسلے میں یہ کمی 11.5 فیصد جبکہ فرانسیسی سیاحوں کے سلسلے میں یہ کمی 4.8 فیصد رہی۔

پیرس کے سیاحتی بورڈ کے صدر فریڈرک ویلٹو کے مطابق یہ وقت اس بات کے احساس کا ہے کہ سیاحت کا شعبہ ایک صنعتی بحران سے گزر رہا ہے۔ ’یہ وقت اشتہاری مہموں کا نہیں بلکہ ایک ریلیف منصوبہ مرتب کرنے کا ہے۔‘

فرانس میں سیاحت کا شعبہ گذشتہ ماہ ملک کے قومی دن کے موقع پر نیس میں ہونے والی ان ہلاکتوں کی وجہ سے بھی متاثر ہوا ہے جو ایک بندوق بردار کی ہجوم پر ٹرک سے کچل دینے سے ہوئیں۔

اس کے دو ہفتے بعد مبینہ طور پر دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے دو اشخاص نے نارمنڈی کے علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک پادری کو قتل کر دیا۔

فرانس میں ہونے والی ہڑتالوں اور سیلاب نے بھی سیاحت کو متاثر کیا ہے۔