’موصل پر حملے سے انسانی مسائل پیدا ہونے کےامکانات ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مارچ سے جاری لڑائی کی وجہ سے اب تک ایک لاکھ 20 ہزار افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں

اقوام متحدہ نے خبرادار کیا ہے کہ عراقی افواج کے موصل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کےلیے ممکنہ کارروائی سے شدید انسانی مسائل پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو نکالنے کے لیے ہونے والی کارروائی سے موصل کے اردگرد قیام پذیر 12 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

مارچ سے جاری لڑائی کی وجہ سے اب تک ایک لاکھ 20 ہزار افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل سنہ 2014 سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے۔

عراق اور شام کے مختلف علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول والے علاقوں میں موصل سب سے بڑا شہر ہے جہاں شدت پسندوں کا قبضہ ہے۔

عراق کے انسدادِ دہشت گردی سروس کے ترجمان صباح نعمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک کی ایلیٹ فورسز مضافاتی علاقوں میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑ رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ فورسز اندر محصور رہائشیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

حکومت کی حامی افواج ہوائی اڈے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد گذشتہ کئی ہفتوں سے قصبے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

عراق کے علاقے قیارہ صلح الجبوری کے میئر کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 15 ہزار شہری علاقے میں محصور ہیں لیکن شدت پسندوں کی اکثریت یا تو ماری گئی ہے یا پھر وہاں سے فرار ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

خیال کیا جا رہا ہے کہ موصل میں جب معرکہ شروع ہوگا تو شہر کے جنوب سے چار لاکھ افراد نقل مکانی کریں گے اور مشرق سے تقریباً ڈھائی لاکھ اور شمالی مغرب سے ایک لاکھ افراد نقل مکانی کریں گے۔

پناہ گزین سے متعلق اقوام متحدہ کے اداے یو این ایچ سی آر کے ترجمان ادران ایڈورڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس معرکہ سے شدید انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

لڑائی کے آغاز سے قبل کی گئی منصوبہ بندی کے تحت موصل سے چھوڑنے والے ایک لاکھ 20 ہزار افراد کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ عراق کے شمالی علاقوں میں مزید چھ نئے کیمپس کھولے گی۔

مسٹر ایڈورڈ نے کہا کہ ’نئے کیمپ بنانا زمین کی فراہمی اور فنڈنگ سے مشروط ہے۔

سنہ 2014 میں عراق کے مختلف علاقوں پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد 33 لاکھ 80 ہزار افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سنہ 2003 میں عراق میں امریکی افواج کی مداخلت کے بعد فرقہ ورانہ فسادات بڑھنے سے دس لاکھ عراقیوں نے نقل مکانی کی تھی۔

اسی بارے میں