ہلیری کلنٹن متعصب اور ہٹ دھرم ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ کا کہنا ہے کہ محترمہ کلنٹن اور ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکہ کی افریقی برادری کا غلط فائدہ اٹھایا ہے

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امید وار ڈونلڈ ٹرمپ نے اقلیتی برادری سے ووٹ کی اپیل کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کی اپنی حریف ہلیری کلنٹن پر متعصب اور ہٹ دھرم ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

مسیسپی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حریف: ’مختلف نسل کے لوگوں کو ایسے نہیں دیکھتیں کہ وہ ایک بہتر مستقبل کے حقدار ہیں بلکہ انھیں صرف ووٹ کے طور پر دیکھتی ہیں۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ محترمہ کلنٹن اور ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکہ کی افریقی برادری کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔

محترمہ کلنٹن نے بھی اس کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ نفرت کی تحریک کو مرکزی دھارے میں لارہے ہیں۔‘

ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ پر یہ کہہ کر سخت نکتہ چینی کی انھوں نے صدر اوباما کی شہریت پر سوال اٹھائے اور متنازع قوم پرست اور یہود مخالف رہنما ڈیوڈ ڈیوک سے دوری بنانے میں ناکام رہے۔

انھوں نے کہا کہ ووہ خود کٹّر پن، تعصب اور دماغی خبط کو گھر گھر جاکر فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مسیسپّی کی اس ریلی میں برطانوی رہنما نائجل فراج بھی ٹرمپ کے ساتھ شامل ہوئے

بدھ کے روز ہونے والی مسیسپّی کی اس ریلی میں برطانوی رہنما نائجل فراج بھی ٹرمپ کے ساتھ شامل ہوئے۔

فراج نے ہی برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہونے کی مہم چلائی تھی جس کی وجہ سے ریفرنڈم میں وہ کامیاب ہوئے تھے۔

انھوں نے اس موقع پر ٹرمپ کے حامیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنا مارچ جاری رکھو اور انتخابی مہم کا آغاز کرو۔‘

حالیہ کچھ دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی افریقی برادری کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی انھیں بہت کم حمایت حاصل ہے۔

ایک حالیہ جائزے کے مطابق امریکہ کی افریقی برادری کی جانب سے انھیں صرف دو فیصد ہی ووٹ مل سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

گذشتہ ہفتے مشیگن میں سفید فام افراد پر مشتمل ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاہ فام ووٹرں کو مخاطب ہوکر کہا تھا کہ وہ غربت میں رہتے ہیں اور ان کے سکول بھی اچھے نہیں ہیں۔

انھوں نے سیاہ فام اقلیت سے کہا تھا کہ اگر وہ انھیں منتخب کرتے ہیں تو اس سے ان کا کیا نقصان ہوجائے گا۔

اب اس حوالے سے وہ اپنی حریف امیدرار ہلیری کلنٹن پر سخت انداز میں نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’وہ آپ کا خیال نہیں کرتی ہیں، ان کی پالسیوں سے آپ کی برادری کو ملا ہی کیا ہے۔ انھیں تو اس پر افسوس بھی نہیں ہے اور وہ امریکن افریقی یا ہسپانوی ووٹرز کے لیے کچھ بھی نہیں کرنے والی ہیں۔‘

محترمہ کلنٹن کی اگلی ریلیاں رینو اور نواڈا میں ہونے والی ہیں جہاں امکان ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر انتہا پسندی کو اپنانے اور امریکہ کی غلط اور تقسیم کرنے والے نظریات پیش کرنے کا الزام عائد کریں گی۔

اسی بارے میں