جرمنی میں ’تین لاکھ پناہ گزینوں کی آمد متوقع‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ برس جرمنی میں مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین داخل ہوئے تھے

جرمنی میں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے وفاقی ادارے کے سربراہ فرینک جیورگن نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں برس تین لاکھ تارکین وطن جرمنی پہنچیں گے۔

فرینک جیورگن نے بلڈ ایم سونتانگ نامی اخبار کو بتایا اگر توقع سے زیادہ تارکین وطن جرمنی آئے تو ان کا دفتر ان کے لیے انتظامات کی کوشش کرے گا۔

٭تارکینِ وطن کی کشتیاں الٹنے سے 700 ہلاکتیں

٭’پناہ گزینوں کو زبردستی شام بھجوایا جا رہا ہے‘

تاہم انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ نئے آنے والوں کی تعداد ان کی جانب سے لگائے جانے والے اندازے کے مطابق ہی ہوگی۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس جرمنی میں مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تھے۔

جرمن وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تین لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد نے رواں برس کے ابتدائی چھ ماہ میں پناہ کی درخواستیں دی تھیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کل کتنے افراد سنہ 2015 میں ملک میں داخل ہوئے تھے۔

تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے وفاقی ادارے کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہ بھی کوشش کریں گے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نوکریاں دے سکیں۔

دوسری جانب بچوں کے ادارے سیو دا چلڈرن کے مطابق جرمنی میں رواں برس جنوری اور فروری کے مہینوں میں پناہ کی ایک لاکھ 20 ہزار درخواستوں میں سے 31 فیصد کم عمر نوجوانوں کی طرف سے آئی تھیں۔

تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے خلاف سرگرم گروہوں کی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سنیچر کو برلن میں دائیں بازو کی کٹر جماعت کے حامیوں کی جانب سے جرمنی میں ’اسلامائزیشن‘ کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

پناہ گزینوں اور تارکی وطن کے خلاف یہ گروہ جرمن جانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے گذشتہ برس ہزاروں تارکینِ وطن کی آمد کو تسلیم کیےجانے والے فیصلے کے خلاف ہے۔

اسی بارے میں