بریکسٹ سے یورپی یونین ختم ہو سکتی ہے: جرمن وائس چانسلر

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption دنیا اب یورپ کو ایک غیرمستحکم براعظم سمجھنے لگی ہے: سگمار گیبریئل

جرمنی کے وائس چانسلر نے خبردار کیا ہے کہ اگر بریکسٹ کا معاملہ درست طریقے سے نہ نمٹایا گیا تو یورپین یونین کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

سگمار گیبریئل نے کہا کہ اگر دوسرے ملکوں نے برطانیہ کے نقشِ قدم پر چلنا شروع کر دیا تو یورپی یونین ختم ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ برطانیہ یورپ سے اچھی اچھی چیزیں تو لے لے لیکن کوئی ذمہ داری قبول نہ کرے۔

یہ بیان ایک ایسے موقعے پر آیا ہے جب برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر صلاح و مشورے کے لیے بدھ کے روز وزرا کا اجلاس طلب کیا ہے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے ایجنڈے پر بریکسٹ سرِ فہرست ہو گا۔

تاہم اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کابینہ بریکسٹ کے معاملے پر منقسم ہے۔

برطانیہ نے 23 جون کو ایک ریفرینڈم کے ذریعے یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سگمار گیبریئل نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ اس ریفرینڈم کے بعد دنیا اب یورپ کو ایک غیرمستحکم براعظم سمجھنے لگی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بریکسٹ بری چیز تو ہے لیکن اس سے اتنا معاشی نقصان نہیں ہو گا جتنا خوف کی فضا سے۔ یہ ایک نفسیاتی اور سیاسی مسئلہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر صلاح و مشورے کے لیے بدھ کے روز وزرا کا اجلاس طلب کیا ہے

’اگر ہم نے بریکسٹ سے نمٹنے میں غلطی کی تو ہم بڑی مشکل میں گھر جائیں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم برطانیہ کو یورپ کی اچھی اچھی چیزیں لینے لیکن کوئی ذمہ داری قبول نہ کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے گذشتہ ہفتے کے دوران کئی یورپی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں جن کے دوران انھوں نے ستمبر میں ایک سربراہی کانفرنس کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے جس کے دوران بریکسٹ کے بعد یورپی یونین کے مستقبل پر بات چیت کی جائے گی۔

انھوں نے کہا ہے کہ بقیہ ملکوں کو ایک دوسرے کی بات کو توجہ سے سننا چاہیے اور پالیسی معاملات پر جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔

اسی بارے میں