سعودی عرب کے ’بےآواز‘ پاکستانی مزدور

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اور انڈین اپنے ملکوں کے لیے کثیر تعداد میں زرِ مبادلہ بھجواتے ہیں جو ان دونوں ممالک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کا اہم حصہ ہے مگر اس کے بدلے میں حکومتی سطح پر ان لوگوں کی مشکلات کے حل کے لیے کتنی کوششیں کی جاتی ہیں؟

بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے شکایت کی کہ حکومتِ پاکستان اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ اس معاملے میں ان کی مدد کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مگر سعودی عرب میں احتجاج کرنے والے اور پھنسے ہوئے ان پاکستانیوں اور انڈینز کا مسئلہ ہے کیا؟

سعودی عرب کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی راشد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ مسئلہ ان چند مخصوص کمپنیوں کا معاملہ ہے جو تعمیرات سے متعلق تھیں اور بہت بڑی کمپنیاں تھیں۔ مگر تیل کی آمدنی میں کمی کی وجہ سے حکومت کی جانب سے بقایا جات کی ادائیگی میں انھیں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں ’مزدوروں کو ادائیگی میں بھی کمی آتی چلی گئی جن کی اکثریت پاکستانی اور ہندوستانی ہیں۔اور چونکہ (نئے) اقامہ نہیں بن رہے اس لیے یہ ایک عجیب گنجلک صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Noor Rahman Sheikh
Image caption انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کے مطابق انھوں نے اپنے مزدوروں کے حالات سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد ان کے لیے خوارک اور طبی سہولیات کا انتظام کیا۔

راشد حسین کے مطابق سعودی حکومت نے ان کمپنیوں کو ادائیگی کا کہہ رکھا ہے مگر یہ کب ہو گا اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔

راشد حسین نے ان مزدوروں کی حالتِ زار کے بارے میں بتایا کہ ’یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوئی آواز نہیں ہے۔ ہندوستان نے بہت جارحانہ طریقے سے اس معاملے کو اٹھایا ہے مگر پاکستانی حکومت نے بہت دھیمے لہجے میں، بہت معصومانہ حد تک درخواست ہی کی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ انڈین حکومت نے تو کسی حد تک یہ کیا ہے کہ اپنے لوگوں سے کہا ہے کہ یہ سارے لوگ واپس آ جائیں، ہم ان کو مفت میں واپس لائیں گے۔ سعودی حکومت نے کہا ہے کہ ان کے جانے کا خرچ سعودی حکومت برداشت کرے گی۔ اوو ان کے پیسے بالکل واپس کیے جائیں گے پاکستانیوں کے لیے تو ابھی تک یہ نوبت بھی نہیں آئی ہے۔

راشد حسین نے مزید کہا کہ ’بات دراصل یہ ہے کہ آپ کا اثر رسوخ کتنا ہے۔ پاکستانی مرتے تو ہیں، دم تو بھرتے ہیں مگر ان کی حکومت کا اثر رسوخ کتنا ہے، یہ بات یہاں واضح ہو جاتی ہے۔‘

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر منظورالحق نے سیربین میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی جن کیمپوں میں رہ رہے ہیں تقریباً ان سب کیمپوں میں کھانے کی فراہمی کا انتظام ہو گیا ہے اور طبی سہولیات کی فراہمی کا معاملہ بھی تقریباً جلد حل ہو جائے گا۔ جبکہ ’کچھ کیمپوں میں سفارت خانے نے لوگوں کو دو سو ریال کے حساب سے کیش ادائیگی بھی کی ہے‘۔

منظورالحق نے بتایا کہ ’سعودی وزارتِ لیبر ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ اپنی کمپنیوں کے خلاف عدالت میں جائیں جس میں وزارت ان کی مدد کرے گی۔ اور ان کمپنیوں سے پیسے واپس دلوائیں گے۔‘

پاکستانی سفیر نے بتایا کہ ان مزدوروں کی مدد کے لیے وزارتِ انصاف اور لیبر نے موبائل دفاتر کھولے ہیں جن میں ان کے کلیم لے کر ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ رہنا چاہتے ہیں یا واپس جانا چاہتے ہیں۔ جو رہنا چاہتے ہیں ان کی دوسری کمپنیوں میں ملازمت کے حصول کے لیے مدد کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں