برٹش ایئر ویز ایران کے لیے پروازیں شروع کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برٹش ائیرویز نے ایران کے لیے سب سے پہلی پرواز لندن سے تہران کے لیے 1946 میں چلائی تھی۔

برٹش ایئر ویز نے ایران کےدارالحکومت تہران تک براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضع رہے کہ برٹش ایئر ویز چار سال میں پہلی ایسی برطانوی ایئر لائن ہوگی جو ایران کی پرواز شروع کرے گی۔

ادارے کے مطابق ابتدائی طور پر لندن ہیتھرؤ سے تہران کے لیے چھ پروازیں ہوں گی۔ برٹش ایئر ویز نے کہا ہے کہ تہران ان کے لیے ایک ’اہم شہر‘ ہے۔

ادارے کا یہ فیصلہ جنوری میں ایران پر سے پابندیاں اٹھنے اور برطانوی سفارت خانے کے تہران میں دوبارہ کھلنے کے فیصلے کے بعد آیا ہے۔

بی ایم آئی وہ آخری ایئر لائن تھی جس نے 2012 میں آخری بار ایران کے لیے پروازیں چلائیں۔

برٹش ایئرویز کا طیارہ بوئنگ 777 برطانوی وقت کے مطابق رات نو بجے ہیتھرؤ سے تہران کے لیے روانہ ہوگا۔

برٹش ایئرویز نے ایران کے لیے سب سے پہلی پرواز لندن سے تہران کے لیے 1946 میں شروع کی تھی۔

لیکن 2007 میں انھوں نے یہ پروازیں بند کردی تھیں۔ اس وقت ان پروازوں کی ذمہ داری برٹش ایئرویز سے ملحقہ ادارے برٹش میڈیٹرینئن ایئرویز پر تھی۔

کچھ عرصے بعد پروازیں دوبارہ شروع ہوئیں اور اس بار بی ایم آئی ایئرلائن نے یہ پروازیں چلانے کی ذمہ داری لی۔ تاہم بی ایم آئی اور برٹش ایئرویز کے ملاپ کے فیصلے کے بعد پروازیں بند کردی گئیں۔

یاد رہے کہ 2011 میں ایران میں قائم برطانوی سفارت خانہ توڑ پھوڑ کے بعد بند کردیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ سال اگست میں اسے دوبارہ کھولا گیا۔

برطانیہ کی طرف سے پروازیں شروع کرنے کا یہ فیصلہ گزشتہ سال چھ بڑی طاقتوں کے ایران سے نیوکلئیر معاہدہ ہونے کے بعد آیا ہے۔ ان ملکوں میں امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس، جرمنی اور چین شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل فرانسیسی ایئرلائن ایئر فرانس نے تہران کے لیے پروازوں کا دوبارہ آغاز سات سال کے عرصے کے بعد اس سال اپریل میں کیا۔

اسی بارے میں