بغیر پتے کا خط نقشے کی مدد سے منزل پر پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Skessuhorn
Image caption اس خط پر پتے کی جگہ پتہ نہیں لکھا تھا بلکہ خط ارسال کرنے والے نے ہاتھ سے اس جگہ پر ایک نقشہ بنایا تھا

آپ نے ایسی بہت سی کہانیاں سنی ہوں گی جب سمندر میں تیرتی بوتلوں میں بند خط ہزاروں میل کا سفر طے کرتی ہوئی منزل پر پہنچا یا پھر کسی خط نے منزل پر پہنچنے میں کئی عشرے صرف کیے۔

اب آئس لینڈ کی شہری ریبیکا کے پاس آنے والے ایک خط کے بعد ان کہانیوں میں ایک نئے موڑ کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اس وقت ریبیکا کیتھرین كادو آسٹن فیلڈ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھیں آ‎ئس لینڈ کے مغربی شہر بوداڈالا کے نزدیک اپنے فارم پر ایک بےپتہ خط ملا۔ وہ یہاں اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

اس خط پر پتے کی بجائے خط ارسال کرنے والے نے ہاتھ سے نقشہ بنایا تھا۔ بھیجنے والے نے یہ نقشہ اپنے اعتماد و یقین کی بنیاد پر بنایا تھا۔

پتے کی جگہ انگریزی میں لکھا تھا: ’ملک: آئس لینڈ، شہر: بوداڈالا، نام ایک گھوڑے کا فارم اور ڈینش میاں بیوی تین بچوں اور بہت ساری بھیڑوں کے ساتھ!‘

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

بھیجنے والے نے جسے خط لکھا تھا اس کی طرف ایک اور اشارہ کرتے ہوئے یہ درج کیا تھا: ’یہ ڈینش خاتون بوداڈالا کی سپر مارکیٹ میں کام کرتی ہیں۔‘

یہ خط آئس لینڈ کے دارالحکومت ركياوك سے ایک سیاح نے بھیجا تھا جو اسی فارم میں ٹھہرے تھے لیکن ممکنہ طور پر وہ اس مقام کا پتہ نہیں جانتے تھے۔

لیکن حیرت کے طور پر یہ خط اس کے باوجود اپنی منزل مقصود تک پہنچ ہی گيا۔

پتے کے بجائے نقشے کی مدد سے خط بھیجنے کا یہ واقعہ اسی سال مارچ میں ہوا تھا اور مئی تک اس کے بارے میں کسی کو خبر تک نہیں تھی۔

پھر آئس لینڈ کی ایک مقامی ویب سائٹ نے ’آئس لینڈ میں کچھ بھی ممکن ہے‘ کے نام سے ایک کہانی پوسٹ کی تو لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ چلا۔

اس کے بعد سے یہ کہانی لفافے کی تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

اسی بارے میں