ازبک صدر اسلام کریموف انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ازبکستان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ 78 سالہ اسلام کریموف دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث چھ روز زیر علاج رہنے کے بعد جمعہ کو انتقال کر گئے ہیں۔

78 سالہ اسلام کریموف کو گذشتہ دنوں دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اور ازبک حکومت کا کہنا ہے کہ صدر کریموف ’شدید علیل‘ ہیں۔

جمعے کو ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسلام کریموف انتقال کر چکے ہیں۔

ازبکستان کے سرکاری ٹی وی چینل نے ہلکی پھلکی انٹرٹینمنٹ کے پروگرام نشر کرنے بند کر دیے۔

کریموف، جو 17 اگست کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں، کا کوئی واضح جانشین نہیں ہے۔ ازبکستان میں کوئی قانونی حزب اختلاف نہیں ہے اور ذرائع ابلاغ پر سخت سرکاری کنٹرول ہے۔

ٹی وی پر براہ راست نشر کی جانے والی کابینہ کے اجلاس میں ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا تھا کہ ’ازبک صدر اسلام کریموف چل بسے ہیں۔ ہم ازبک عوام کے دکھ اور درد میں برابر کے شریک ہیں۔‘

جورجیا کہ صدر جارجی مارگ ویلاشوِلی نے بھی صدارتی ویپ سائٹ پر ایک تعزیتی بیان شائع کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے اور جورجیا کے عوام کی طرف سے صدر کے خاندان اور ازبک عوام سے اظہار تعزیت کے خواہش مند ہیں۔

روس میں قائم ایک ویب سائٹ ’فرغانہ‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ مسٹر کریموف کی تدفین کے لیے سمرقند کے تاریخی شہر میں تیاریاں جاری ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے۔

سنیچر کے روز سمرقند کا ہوائی اڈا معمول کی پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

کئی ملکوں میں سفارتی ذرائع سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ تدفین میں شرکت کے لیے سفری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ترک وزیر اعظم کے بیان سے قبل صدر کریموف کی موت کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ صدر کریموف انتقال کر چکے ہیں جبکہ جمعے کو خبررساں ادارے روئٹرز نے بھی تین سفارتی ذرائع سے صدر کریموف کے انتقال کی تصدیق کی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبد الجلیل کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ازبک صدر کی صحت کے مسائل کو ریاستی راز کی طرح چھپایا گیا۔

اسی بارے میں