اسلام کریموف سپرد خاک، ازبکستان میں تین روزہ سوگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس کے وزیر دمتری میدوی ایدف اسلام کریموف کی بیوہ اور بیٹی سے اظہار تعزیت کر رہے ہیں

ازبکستان کے 78 سالہ صدر اسلام کریموف کی ان کے آبائی علاقے ثمرقند میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ گذشتہ 27 برسوں سے بلاشرکت غیرے اقتدار پر فائز صدر اسلام کریموف کی موت پر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

صدر اسلام کریموف کی موت دماغ کی شریان پھٹنے سے ہوئی ہے۔

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے اسلام کریموف کی میت ایئر پورٹ لے جانے والے قافلے پر پھول نچھاور کیے۔اس موقع پر کئی افراد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔

اسلام کریموف کی آخری رسومات میں روسی وزیر اعظم دمتری میدوی ایدف، افغانستان کےصدر اشرف غنی سمیت کئی علاقائی رہنماؤں نے شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم شوکت مرزایوف اسلام کریموف کے ممکنہ جانشینوں میں سے ایک ہیں

اسلام کریموف کو دفنانے کی تقریب کی وزیر اعظم شوکت مرزایوف کی نگرانی میں ہوئی۔

مبصرین کےمطابق 2003 سے وزیر اعظم کےعہدے پر فائز شوکت مرزایوف اور سابق صدر کے نائب رستم عظیموف کو ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے۔

اسلام کریموف کے دور اقتدار میں ان کی بیٹی گلنارہ کو ان کے جانیشن سمجھا جا رہا تھا لیکن کچھ سال پہلے وہ زیر عتاب آئیں اور انھیں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

٭ ازبک صدر کی جگہ کون لے گا؟

٭ ازبک صدر اسلام کریموف انتقال کر گئے

٭ ازبکستان کی شہزادی گھر میں نظربند

اسلام کریموف کو دفنانے کی تقریب کی نگرانی وزیر اعظم شوکت مرزایوف کی نگرانی میں ہوئی۔

مبصرین کےمطابق 2003 سے وزیر اعظم کےعہدے پر فائز شوکت مرزایوف اور سابق صدر کے نائب رستم عظیموف کو دو ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے۔

اسلام کریموف کے دور اقتدار میں ان کی بیٹی گلنارہ کو ان کے جانیشن سمجھا جا رہا تھا لیکن کچھ سال پہلے وہ زیر عتاب آئیں اور انھیں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تاشقند میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر اسلام کریموف کی میت لے جانے والے قافلے پر پھول نچھاور کیے

اسلام کریموف 27 سال برسراقتدار رہے اور ان پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مخالفین کو دبانے کے الزام عائد کیے جاتے ہیں۔

ابھی تک ملک کے نئے حکمران کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہو سکی ہے کیونکہ انھوں نے کسی کو اپنا جانشین نامزد نہیں کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسلام کریموف کی موت پر کئی لوگ اپنےجذبات پر قابو نہیں رکھ سکے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اسلام کریموف کی جانب سے تشدد کے استعمال کو ’منظم‘ بیان کیا گیا تھا۔

اسلام کریموف عام طور پر سختیوں کی توجیح اسلامی شدت پسند کے خطرے کو بیان کرتے تھے۔

ازبکستان کے سرکاری ٹی وی چینل نے ہلکی پھلکی انٹرٹینمنٹ کے پروگرام نشر کرنے بند کر دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسلام کویموف کے آبادئی شہر ثمرقند میں آخری رسومات کی تیاری کی جارہی ہے

ازبکستان میں کوئی قانونی حزب اختلاف نہیں ہے اور ذرائع ابلاغ پر سخت سرکاری کنٹرول ہے۔

کئی ملکوں میں سفارتی ذرائع سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ تدفین میں شرکت کے لیے سفری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ترک وزیر اعظم کے بیان سے قبل صدر کریموف کی موت کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ صدر کریموف انتقال کر چکے ہیں جبکہ جمعے کو خبررساں ادارے روئٹرز نے بھی تین سفارتی ذرائع سے صدر کریموف کے انتقال کی تصدیق کی تھی۔

اسی بارے میں