عالمی رہنما ’کھوکھلے مذاکرات‘سے اجتناب کریں:چینی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چین کے صدر نے کہا ہے کہ عالمی معیشت میں بہتری آ رہی ہے تاہم ابھی بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے

چین کے صدر شی جن پنگ نے جی 20 اجلاس میں شرکت کے لیے آئے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ’کھوکھلے‘ مذاکرات سے اجتناب کریں۔

چینی صدر کے بقول اقتصادی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ بامقصد بات چیت کی جائے۔

خیال رہے کہ دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں پر مشتمل جی 20 گروپ کے ممبران کا اجلاس پہلی بار چین میں منعقد ہو رہا ہے۔

چین کے صدر نے کہا ہے کہ عالمی معیشت میں بہتری آ رہی ہے تاہم ابھی بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔

چین کے شہر ہانژوا میں جی 20 گروپ کے رکن ممالک کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ ’عالمی معیشت کو درپیش مسائل کے تناظر میں بین الاقوامی برادری کو جی 20 اجلاس سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔‘

اجلاس میں دیگر اہم مسائل پر بات چیت کے علاوہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے فیصلے، بین الاقوامی سٹیل کی منڈی کو درپیش بحران اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے ٹیکس مامعلات پر بھی غور کیا جائے گا۔

جی 20 اجلاس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کی تھا کہ اس برس بھی عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار کی پیشن گوئی میں کمی امکان ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ آنے کے بعد آئی ایم ایف پہلے ہی رواں برس کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کے ٹارگٹ میں کمی کا اعلان کر چکی ہے۔

اس قبل سنیچر کو جی 20 اجلاس کے دوران دنیا میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے دونوں بڑے ذمہ دار ممالک، امریکہ اور چین نے عالمی حدت پر قابو پانے کے ’پیرس معاہدے‘ کی منظوری دے دی ہے۔

چین کی جانب سے اس کا اعلان سنیچر کو چین کے شہر ہانژوا میں ’جی 20‘ گروپ کے رکن ممالک کے اجلاس کے موقع پر کیا گیاتھا اور جب امریکی صدر براک اوباما اس اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو امریکہ کی جانب سے بھی پیرس معاہدے کی توسیع کا اعلان کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ عالمی حدت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافہ ہے۔

اسی بارے میں